کشمیر کی کہانی — Page 285
باب اوّل بر صغیر کی تقسیم کے چند نا قابل فراموش پہل, اسی اثناء میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی نظر اُس نقشہ پر جا پڑی جو کمرہ کی دیوار کے ساتھ لٹک رہا تھا۔چوہدری صاحب اسے کو نقشہ کی مدد سے اپنی بات ذہن نشین کرانے کے لئے انہیں نقشے کے پاس لے گئے مگر نقشہ کو دیکھتے ہی اُن کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اس نقشہ پر بھی پنسل سے ایک الگ لکیر لگی ہوئی تھی اور یہ لکیر اس لکیر کے مطابق تھی جو مسٹر جسٹس دین محمد نے چوہدری محمد ظفر اللہ خان کے سامنے بیان کی تھی۔چوہدری صاحب نے اس لائن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اب کسی وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔اس پر اسمے کا رنگ فق ہو گیا اور وہ کھسیانا ہو کر کہنے لگا نہیں معلوم میرے نقشہ میں یہ گڑ بڑ کس نے کی ہے۔“ بسم الله الرحمن الرحيم (تحدیث نعمت صفحہ ۵۱۱ ایڈیشن اوّل) مسئلہ کشمیر پورے 34 سال سے قابل حل چلا آ رہا ہے۔حکومت برطانیہ نے بر صغیر پاک و ہند کے متعلق یہ اعلان تو کر دیا ہے کہ ہندوستان کو جلد آزادی دے دی جائے گی۔لیکن شائد اس کے ذہن میں بھی ابھی کوئی ایسا حل نہیں تھا جو ہندوستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو منظور وقبول ہو۔289