کشمیر کی کہانی — Page 265
جائیں گے “ ( ٹریکٹ کشمیر ایجی ٹیشن ۳۸ ء کے متعلق چند خیالات ) إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ لیکن کشمیری لیڈروں کے سروں پر نیشنلزم کا ایسا بھوت سوار تھا کہ اُس وقت انھوں نے اپنے دیر بین حسن کے اس مخلصانہ مشورہ پر کوئی کان نہ دھرا۔جن چندار کان نے اس مشورہ کی اہمیت کو سمجھا ان کی آواز اس قدر کمزور تھی کہ وہ دوسروں کو ہم نوا بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے نتیجہ ورکنگ کمیٹی کا یہ ریزولیوشن مسلم کانفرنس کے اجلاس عام منعقدہ ۱۰ جون ۳۹ء میں توثیق کے لیے پیش کر دیا گیا جو منظور ہو گیا۔اور مسلم کانفرنس‘۱۰ ارجون ۳۹ کو کشمیر نیشنل کانفرنس میں ضم ہوگئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ۱۰ارجون ۳۹ء کو رات ۱۰ بج کر ۲۷ منٹ پر مولوی محمد سعید نے مسلم کانفرنس“ کی بجائے نیشنل کانفرنس“ بنائے جانے کی قرارداد اجلاس عام میں پیش کی۔قرارداد کے الفاظ یہ کا نفرنس کا یہ اجلاس خاص اس کا نفرنس کے نام اور آئین میں تبدیلیاں اور تر میمات کرنے کی نسبت کا نفرنس کی مجلس عاملہ منعقد ہ ۲۸/ جون ۱۹۳۸ء کی قرار داد نمبر ۵ کی تصدیق و توثیق کرده مجلس شوری منعقده ۱/۲۷ پریل ۱۹۳۹ء کو منظور کرتا اور قرار دیتا ہے کہ اس کا نفرنس کا آئندہ کے لیے نام ” آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس ہوگا۔اور ریاست کشمیر و جموں کا ہر بالغ (انسان) مرد ہو یا عورت بلا تمیز مذہب وملت ورنگ ونسل اس کا نفرنس کا ممبر بن سکے گا۔بشرطیکہ وہ حقوق شخصی آزادی کے حصول اور قیام ذمہ دار نظام حکومت اپنا نصب العین سمجھنے کا اعلان واقرار تحریری طور پر کرے۔نیز یہ اجلاس قرار دیتا ہے کہ آئندہ سالانہ اجلاس تک موجودہ مجلس مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے ارکان اور عہدیدار اور اجلاس ہذا کے مندوبین اور 269