کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 266 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 266

ماتحت مجالس ہائے کانفرنس کے ارکان جدید دستور اساسی کی شرائط کے اقتضا کو پورا کرنے کے بغیر ہی آل جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے رکن متصور ہوں گے۔اور اسی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔‘ ( اصلاح سری نگر ۱۶ / جون ۱۹۳۹ء) شومی فراست کہ بعض مسلم را ہنماؤں نے جو شروع ہی سے دماغ کی بجائے جذبات کے تابع ہو کر کام کرنے کے مریض تھے اپنے اس نئے معاہدہ کی تائید میں معاہدہ مدینہ اور صلح حدیبیہ کو بطور نظیر پیش کرنے میں بھی کوئی قباحت یا تذبذب محسوس نہ کیا۔چودھری غلام عباس نے بھی ایک لمبی چوڑی تقریر فرما دی ذرا اُس کے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں۔چودھری صاحب نے فرمایا:۔آج ہماری ضروریات بڑھ رہی ہیں۔اور اب غیر ذمہ دار نظام حکومت کے ختم کرنے کے لیے سب فرقوں کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر جد و جہد کرنا ضروری ہے۔جہاں مسلمان مظلوم ہے وہاں ہندو بھی مظلوم ہے۔ہاں کچھ گورنمنٹ پرست اور ملازمتوں پر ہیں۔جو تعاون کے لیے تیار نہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ساتھ ہند و مظلومین کی مصائب کا خاتمہ بھی کریں۔زمانہ کے ساتھ حالات وخیالات بدلتے رہتے ہیں۔آٹھ سال قبل جو ہم نے سیاسی قباء پہنی تھی وہ صرف پرانی ہی نہیں ہوگئی بلکہ پھٹ کر تار تار بھی ہو چکی ہے۔اب ہم ایسا جامہ پہنیں گے جو ہمارے لیے باعث فخر ہو اور دنیا کے لیے بھی باعث فخر ہو“۔(اصلاح سری نگر ۱۶ جون ۱۹۳۹ء) گاندھی جی کی عظمت کا اقرار پھر فرمایا:۔270