کشمیر کی کہانی — Page 202
ایک کو بھی کوئی سزا نہ ہوئی۔نوشہرہ میں چار مقدمات بینچ کے سامنے پیش تھے۔۹۲ ملزم تھے میر محمد بخش وکیل نے تین ماہ کام کیا اور مقدمات کے ۶۴ میں سے ۴۵ بری ہوئے۔باقیوں کو خفیف سزا جرمانہ وغیرہ ہوا۔بقیہ مقدمات میں بھی ملزم بری ہوئے۔ان سب وکلاء کے اخراجات سفر و خوراک کا انتظام آل انڈیا کشمیر کمیٹی کرتی تھی۔کمیٹی تو مقروض تھی تاہم روپیہ کا انتظام محترم صدر صاحب کے ذمہ تھا۔مولانا جلال الدین شمس جو کمیٹی کے ممبر اور اسٹنٹ سیکرٹری تھے اور جن کے سپر د وکلاء سے رابطہ رکھنے کا فریضہ تھا۔بہ طریق احسن اپنے فرض منصبی کو انجام دیتے رہے۔ہر مقدمہ میں جب مظلوم کال کوٹھڑیوں سے باہر نکلتے تو پہلا کام صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو مبارک باد اور شکریہ کا تار ارسال کرنے کا کرتے۔سری نگر میں ۱۳ ستمبر ۳۲ ء کو ایک عظیم الشان جلسہ زیر صدارت مولاناسید حبیب ایڈیٹر سیاست منعقد ہوا۔جس کی غرض شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ اور شیخ محمد احمد ایڈووکیٹ کی خدمات کو سراہنا اور صدر محترم کا (جنھوں نے انھیں بھجوایا تھا) شکریہ ادا کرنا تھا۔شیخ محمد عبد اللہ۔عبدالرحیم ایم۔اے۔مولوی عبد اللہ وکیل اور مفتی جلال الدین نے تقریریں کیں۔اور شکریہ کے ریزولیوشن متفقہ طور پر منظور ہوئے۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ سے بھی درخواست کی گئی کہ وہ عظیم مجمع کو مخاطب کریں۔جس پر آپ نے ایک ولولہ انگیز تقریر کی۔مولا نا درد کی خدمات مولا نا عبدالرحیم دردایم۔اے (سیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی ) قریب دو سال تک نہایت شاندار خدمات سرانجام دینے کے بعد ۲ فروری ۱۳۳ء کو انگلستان تشریف لے گئے یکم فروری کو لاہور ( سیل ہوٹل ) میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا ایک فوری اجلاس محترم صدر میرزا 206