کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 201 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 201

عصمت اللہ ( وکیل ) مئی ۳۲ ء سے مقدمات کی پیروی کرتے چلے آئے تھے۔۲۸ مقدمات میں ۸۷۰ مسلمان ماخوذ تھے۔ان وکلاء کی مساعی جمیلہ کے نتیجہ میں ۵۶۰ بری ہو گئے۔اور صرف ۶۲ کو خفیف سزا یا معمولی جرمانہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔حالانکہ ان کے خلاف قتل۔ڈکیتی اور آتش زدگی ایسے سنگین مقدمات چلائے گئے تھے۔میر پور میں ایک کیس میں نچلی عدالتوں میں ملزموں کو سزا ہو چکی تھی۔ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی۔ملک محمد حسین بیرسٹر ( جو نیروبی مشرقی افریقہ کے مشہور وکیل تھے ) دوماہ کے لیے ہندوستان آئے تھے۔انھوں نے اپنی خدمات محترم صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سپرد کر دیں۔اس کیس میں انھیں بحث کے لیے بھجوایا گیا۔اپیل منظور ہوگئی۔اور ملزم بری ہوئے۔سری نگر میں شیخ محمد احمد ایڈووکیٹ سات ماہ تک شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ چھ ماہ تک اور چودھری یوسف خاں (وکیل) تین ماہ تک مقدمات کی پیروی کرتے رہے۔۲۸ مقدمات تھے جن میں ۱۴۳ مسلمانوں ماخوذ تھے ان میں سے گیارہ کو پانچ پانچ روپے اور ایک کو ایک روپیہ جرمانہ ہوا۔۱۸ کو خفیف سزائیں ہوئیں باقی سب رہا اور بری کر دیے گئے۔پونچھ میں چودھری عزیز احمد وکیل پانچ ماہ تک اور قاضی عبدالحمید وکیل چار ماہ کام کرتے رہے۔تمام مقدمات میں ۷۴ مسلمان ماخوذ تھے۔جو سب کے سب بری کر دیے گئے جموں میں میر محمد بخش چھ ماہ تک کام کرتے رہے۔۱۴ مقدمات تھے۔۳۱ ملزم تھے۔بیس بالکل بری ہوئے۔جموں میں ہائی کورٹ میں جوا پہلیں ہوئیں ان میں شیخ بشیر احمد پیش ہوتے تھے اور بعض اوقات چودھری اسد اللہ خاں بیرسٹر بھی مختلف اوقات میں آکر پیش ہوتے رہے راجوری میں قاضی عبدالحمید وکیل تین ماہ کام کرتے رہے۔۲۵ ملزم تھے ان میں سے 205