کشمیر کی کہانی — Page 190
میں مہاراجہ جموں و کشمیر کو مشورہ دیتا ہوں کہ جس طرح ان کے چھوٹے بھائی نے نیک نفسی اور صاف دلی کا ثبوت دیتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق و مطالبات کو تسلیم اور منظور کر لیا ہے اور وہ بھی اسی راہ پر چل کر لاکھوں مظلوموں کی دعائیں لیں“ جموں و کشمیر کانفرنس کا انعقاد متذکرہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے ۱۵ تا ۱۷ را کتوبر۱۹۳۲ء کی تاریخیں مقرر ہوئی تھیں۔لیکن بعد میں کام کی زیادتی کے باعث معیاد انعقاد میں دودن کا اضافہ کردیا گیا کا نفرنس کے لیے پتھر مسجد کا وسیع و عریض صحن تجویز ہوا۔مسجد کے صحن کی جنوبی دیوار کے ساتھ ایک بہت بڑی سٹیج ( جو زمین سے پندرہ فٹ اونچی تھی ) تیار کی گئی۔اس سٹیج پر دوصد نمائندگان اور ایک صدر معزز زائرین اور نمائندگان پریس کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔لاؤڈ سپیکر کا تسلی بخش انتظام تھا۔زائرین کے بیٹھنے کے لیے پتھر مسجد کے صحن کے علاوہ وہ میدان بھی تھا۔جہاں بعد میں نیشنل کانفرنس کے دفاتر کی عمارت تعمیر ہوئی۔رضا کاروں کے کیمپ بھی اسی میدان میں تھے نمائندگان کی رہائش و خوراک کا عمدہ اور تسلی بخش انتظام تھا۔ان سب کے لیے ہاؤس بوٹ بھی اسی جگہ عارضی طور پر لگا دیئے گئے تھے۔سب انتظامات ایسی عمدگی سے ہوئے کہ ریاست کے حکام ششدر رہ گئے کہ نا تجربہ کارلوگوں نے کیسا کرشمہ کر دکھایا ہے۔194