کشمیر کی کہانی — Page 191
خطبہ صدارت ۱۵ اکتوبر کی شام کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔خواجہ غلام احمد عشائی ایم۔اے نے مجلس استقبالیہ کی طرف سے خطبہ پڑھا۔جس میں مسلم کانفرنس کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔اس کے بعد شیخ محمد عبد اللہ نے خطبہ صدارت پڑھا جس میں تمام ضروری امور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تحریک ہرگز فرقہ ورانہ نہیں ہے۔مسلمان مہاراجہ اور ریاست کے وفادار ہیں ھمینسی کمیشن کے اچھے نکات کی تعریف کی گئی۔لیکن ساتھ ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ کمیشن کی سفارشات پر پورے طور پر عمل نہیں ہورہا۔علاقہ میر پور میں آرڈیننسوں کی واپسی پر لیس اور پلیٹ فارم کی آزادی کا مطالبہ کیا گیا۔مجوزہ اسمبلی کی ہیئت ترکیبی پر تنقید اور پونچھ کے لوگوں کو جائز حقوق دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔غرض اس خطبہ میں تمام پیش آمدہ حالات کا ذکر موجود تھا۔سب کمیٹیاں مختلف امور پر غور کرنے اور قرار دادوں کی ترتیب کے لیے تین سب کمیٹیاں مقرر کی گئیں۔سات ارکان کی ایک کمیٹی نے گلینسی کمیشن کی آئینی سفارشات پر غور اور مسلم کا نفرنس کا دستور مرتب کرنا تھا۔اکیس ارکان کی دوسری سب کمیٹی کو گلینسی رپورٹ پر باشندگان کشمیر کی شکایات کی روشنی میں سوچ بچار کرنا تھا۔تیسری کمیٹی (جو بائیس ارکان پر مشتمل تھی ) دیگر متفرق تجاویز پر غور کرنے کے لیے مقرر کی گئی تھی۔صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پیغام کمیٹیاں متواتر تین دن رات کام کرتی رہیں۔۱۸ را کتوبر کو رات کے وقت اجلاس عام ہوا۔شیخ محمد عبد اللہ نے محترم صدر ( آل انڈیا کشمیر کمیٹی ) صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد 195