کشمیر کی کہانی — Page 152
رہے۔جب فضا خشک ہوگئی تو سیاست کے رستے فقیر کمبل جھاڑ کر چلتے بنے۔اہالیانِ ریاست نے بھی قربانیاں دیں اور بیرونی ہمدردوں نے بھی کوئی دقیقہ فرد گذاشت نہ کیا۔اگر مہاراجہ پر حکومت ہند اور حکومت برطانیہ کا دباؤ نہ پڑتا تو اتنی قربانیوں کے باوجود کشمیری کچھ نہ کر سکتے۔سب کوششوں اور قربانیوں کے یکجا ہو جانے سے اچھے نتائج پیدا ہوئے۔مولانا عبد الرحیم درد۔صوفی عبد القدیر نیاز اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے نمائندوں نے مسٹر گلینسی سے بار بار ملاقاتیں کیں اور ان پر مطالبات کی منظوری کی سفارش کرنے پر زور دیا اور جن معاملات میں انہیں شرح صدر نہ ہوتا تھا۔کوشش کی کہ وہ ان کے ہم خیال ہو جائیں۔گلینسی کمیشن کی رپورٹ آزادی کشمیر کی تاریخ میں بہت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اس سے بلا شک و شبہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی۔کہ رعایا کی شکایات حقیقت پر مبنی تھیں اور انہوں ے بلا وجہ چیخ و پکار نہ شروع کر رکھی تھی۔اور یہ کہ انکا ازالہ نہایت ضروری تھا۔یہی موقف آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ابتداء سے اختیار کر رکھا تھا۔اور نمائندگان ریاست بھی اس کے ساتھ متفق تھے۔کانفرنس برائے آئینی اصلاحات مینسی کمیشن کے علاوہ مہاراجہ نے ریاست میں آئینی اصلاحات کے اجراء کے سوال پر بحث اور سفارشات کے لیے ایک کانفرنس مقرر کی۔جس کا صدر من گلینسی کومقرر کیا۔ان کے علاوہ اس کے چودہ ارکان تھے۔کمیشن کے تینوں ممبر بھی اس کے رکن تھے۔کئی ارکان نے عدم تعاون کیا۔ان کو کمیشن کی ہیئت ترکیبی پر اعتراض تھا۔اس کے باوجود کاروائی جاری رہی اور اپریل ۳۲ ء کے آخر پر کانفرنس نے اپنی سفارشات مہاراجہ کے سامنے پیش کر دیں۔156