کشمیر کی کہانی — Page 139
مقدمات اور کمیشن کے لئے مواد اکٹھا کرنے میں شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ کی مدد کے لئے وہیں روک لیے گئے۔پہلے بھی آپ تین ماہ رہ چکے تھے اس دفعہ بھی تین ماہ سے کچھ زائد عرصہ خدمات سرانجام دینے کے بعد فروری ۳۲ء میں واپس لاسکپور آ گئے اور پھر تھوڑے ہی عرصہ کے بعد بھمبر کے کیسوں کی پیروی کے لئے وہاں بھجوائے گئے۔جب نوشہرہ میں مقدمات کے لیے بیچ مقرر ہوا تو وہاں چلے گئے اور جب میر محمد بخش جموں میں چھ ماہ کام کرنے کے لئے میر پور بھجوایا گیا۔شیخ صاحب کی غیر حاضری میں یہی پورے طور پر ذمہ دار ہوتے تھے۔ان کی کوشش سے سموال مقدمہ قتل کے تمام ملزم بری ہو گئے۔چودھری عصمت اللہ صاحب یہ خدمات سرانجام دینے کے بعد دسمبر ۳۲ء میں واپس آگئے۔پونچھ کے مخلص رہنما کشمیر کے مختلف حصوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسے مخلص کارکن موجود تھے جن کی خدمات اپنے لیڈروں سے کسی طرح کم نہیں۔لیڈر تو اُن کو بھول چکے لیکن تاریخ اُن کا نام کبھی نہیں بھول سکتی۔ایسے لوگوں میں پونچھ کے منشتی دانش مند خاں تھے ( جوان دنوں ابھی وکیل نہ بنے تھے ) انہوں نے سارے علاقہ کا دورہ کر کے باشندگان پو نچھ کو منظم کیا۔یہ پونچھ کی قومی تحریک کے سرکردہ راہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔کوٹلی میں اُن کے بھائی ماسٹر امیر عالم بھی اسی طرح سرگرمی سے کام کر رہے تھے۔جب پونچھ میں رعایا پر مظالم شروع ہوئے تو منشی دانشمند خاں اور انجمن اسلامیہ پونچھ کے صدرصو بیدار میجر محمد خاں نے صدر محترم کشمیر کمیٹی سے رابطہ پیدا کر کے امداد کی درخواست کی۔صدر محترم نے مالی مدد کے علاوہ مقدمات کی پیروی اور افسران سے رابطہ رکھنے کے لیے چودھری عزیز احمد باجوہ وکیل سیالکوٹ کو ( جموں میں کام ختم کرنے پر میر پور بھجوائے گئے تھے) پونچھ بھجوایا۔جہاں آخر جولائی ۳۲ ء تک (قریباً نوماہ) 143