کشمیر کی کہانی — Page 6
در تے۔قدمے سخنے اُسے پروان چڑھانے کے لئے وقف ہو جایا کرتے ہیں۔مخالفتیں کس سبک سری سے اُن سے پہلو بچایا کرتی ہیں۔اور وہ مصائب و آلام سے مردانہ وار کھیلتے ہوئے کس طرح بہیمیت و بر بریت کے دریاؤں میں سے اپنی پناہ میں آجانے والوں کو ان کا دامن آلودہ ہوئے بغیر انہیں سلامتی کے گھاٹ تک لے کر پہنچ جاتے ہیں۔میرا خدا چودھری ظہور احمد صاحب کو عمر میں برکت دے۔انہوں نے بڑی محبت احتیاط اور دیانت سے جدو جہد آزادی مسلمانان کشمیر کی اولین مہم کے ان اوراق کو محفوظ رکھا اور وقت آنے پر بلاشبہ ہر چیز اور ہر بات کے منظر عام پر آنے کے لئے بھی ایک وقت معین ہے ) یہ تمام دست آویزات من وعن (اس عالمی مسئلہ سے حقیقی ہمدردی اور دلچسپی رکھنے والوں کے ) سامنے رکھ دیں۔میں تو اسے مسلمانانِ کشمیر کی تقدیر کی شومی ہی کہوں گا کہ اُن کی رستگاری کے لئے جب بھی کوئی مخلصانہ تحریک پوری دردمندی سے شروع ہوئی۔اس کے نقطہ عروج کو پہنچتے ہی سیم وزر کی شہہ پر حریفاں بدخواہ کا ایک گروہ کشمیر دوستی ہی کا نعرہ لگا کر اس کے سپوتا ثر کے لئے اُٹھ کھڑا ہوا گویا ہر دفعہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے مسلمانان کشمیر کی آزادی و فلاح سب سے پہلی۔موثر اور ہمہ گیر ہم تو آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ ہی نے شروع کی تھی جس کی باگ ڈور ملت اسلامیہ کے مایہ ناز فرزند اور جماعت احمدیہ کے امام (صدر کمیٹی ) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہاتھ میں تھی اور جس کی پشت پر علامہ اقبال۔خواجہ حسن نظامی۔نواب سر ذوالفقار علی۔نواب محمد ابراہیم خاں آف کنج پورہ۔مولانا سید حبیب۔مولانا مہر۔مولا ناسالک۔ڈاکٹر شفاعت احمد۔مولانا 10