کشمیر کی کہانی — Page 5
نقش ہوں۔کیا وہ بھی کبھی نظر انداز ہوئی ہیں۔کبھی لفاظیوں سے بھی خلوص نیت وحسن عمل کے خلاء پر ہوئے ہیں؟ کیا کبھی سیاست انسانیت دوستی کی آب و تاب کو بھی ماند کر پائی ہے ! چنانچہ آج وہ تمام مراحل ، وہ تمام مساعی ، وہ تمام پر خلوص سرگرمیاں کشمیر کی کہانی کے روپ میں ہمارے سامنے ہیں۔جن کی روشنی میں ہر غیر جانب دار اور نیک نیت قاری بآسانی آغاز جد و جہد آزادی کشمیر کے مالہ وما علیہ سے آگہی حاصل کر سکتا ہے۔کہ اس ایوان حریت پسندی کی نیو کس نے رکھی؟ اس کی بنیادوں میں سب سے پہلے کس فرد۔جماعت یا ادارے کی بے لوث قربانیوں اور جاں نثاریوں کا چونا گارا کھپا؟ اور آج جس جد و جہد کا ہر پہلو عالمی بلکہ تاریخی حیثیت حاصل کئے ہوئے ہے۔اس کی شریانوں میں دوڑنے والے خون کی آب و تاب کن دردمند انسانیت دوستوں کے حُسن ایثار و عمل کی مرہونِ منت ہے۔بے شک اس کہانی میں بیان واظہار کا چٹخارہ کم از کم ہے! اس کی عبارت میں تخیلاتی فقرہ بازیوں کی لذتیں بھی شاید نہ ملیں ! سیاسی اُکھاڑ ، پچھاڑ اور لتاڑ کی سنسناہٹ بھی مفقود ہو! غیر ضروری افسانہ طرازیوں کا دبیز قشر بھی شاید نہ مل سکے لیکن یہ اوراق مغز سے خالی نہیں ہیں اس کہانی کے ورق ورق پر آپ اُن جان نثاروں کے خون کے چھینٹے ملیں گے جو شمع حریت پر سب سے پہلے پروانہ وار شار ہوئے اس کا ہر باب یہ ضرور بتائے گا کہ جب قوموں کی رستگاری کے بیڑے اُٹھائے جاتے ہیں تو کس نوع کے ہمہ گیر پروگرام مرتب کرنے پڑتے ہیں اور کس کس طرح ایک ایک قدم گردو پیش سے چوکس ہو کر پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔اور جو ذ کی الذہن ایسی جان ہار مہموں کا علم بلند کیا کرتے ہیں اُن کی سوچ کیسی بین الاقوامی۔اُن کا حوصلہ کس قدر ارفع و بلند اور اُن کے عزائم کیسے استادہ گیر قسم کے ہوتے ہیں وہ جب ملت انسانیت کی فلاح و بہبود کی کسی مہم پر ہاتھ ڈالتے ہیں تو کس طرح داتے 9