کشمیر کی کہانی — Page 334
حیات موسومه به تحدیث نعمت میں اس سفر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس حالت میں چوہدری محمد علی سیکرٹری جنرل (جو بعد میں وزیراعظم پاکستان بھی رہے ) کی رفاقت اور تعاون بہت اطمینان کا باعث ثابت ہوا۔اس پیچیدہ کیس کی تیاری بڑے نامساعد حالات اور بے سروسامانی کی حالت میں اور درمیانی تمام رکوں کی موجودگی میں ) ہوئی۔تیاری کے لئے بہت کم مہلت دی گئی۔لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے تمام مشکلات آسانیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ع مشکلیں کیا چیز ہیں مشکل کشاء کے سامنے چوہدری صاحب محترم نے نہ صرف ہندوستان کے تمام الزامات کا مدلل ومسکت جواب تیار کیا۔بلکہ الٹا ہندوستان کو مجرم قرار دلانے کے لئے بھی مبسوط کیس تیار کر لیا۔اُس وقت مجلس امن کے گیارہ رکن تھے۔(1) ریاست ہائے متحدہ امریکہ (2) برطانیہ (3) فرانس (4) چین اور (5) روس تو مستقل ممبر تھے۔(6) ارجنٹائن (7) بیلجیم (8) کولمبیا (9) کینیڈا (10) شام اور (11) یوگوسلاویہ معیادی رکن تھے۔سماعت کا آغاز 15 جنوری 1948ء کو مجلس امن کے پہلے اجلاس میں اپنا کیس پیش کرتے ہوئے ہندوستانی وفد کے سربراہ سر کو پالا سوامی آئنگر نے کہا کہ ”مہاراجہ کشمیر نے ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ برضاء و رغبت کیا ہے۔جس کے خلاف پاکستان کی انگیخت پر اور اس کی مدد سے قبائلیوں نے ریاست پر دھاوا بول کر ریاست میں بہت خون خرابہ کیا ہے۔جس کی روک تھام کے لئے ہندوستان کو وہاں اپنی فوج بھیجنی پڑی ہے۔اب یہ چپقلش جنگ کی صورت اختیار کر گئی ہے۔پاکستان قبائلیوں کی ہر طرح مددکر 338