کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 333 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 333

چکے تھے ) بھجوایا۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے سردار صاحب نے راقم الحروف کو بتایا: امریکہ کو روانگی سے قبل وہ قائد اعظم کی خدمت میں ہدایات حاصل کرنے کے لئے حاضر ہوئے تو قائد اعظم نے ان سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا: "Well Gentleman Go and see Zafarullah Khan - He knows everything۔" ہیں۔ترجمہ اچھا آپ جائے اور وہاں ظفر اللہ خان سے ملئے وہ تمام حالات سے بخوبی باخبر قضیہ کشمیر مجلس امن میں یکم جنوری 1948 ء کو ہندوستان نے اقوام متحدہ کے منشور کی اس دفعہ کے تحت کہ ہر مبر کو اختیار ہے کہ وہ ہر اس مسئلہ کو مجلس امن میں بحث کے لئے پیش کر سکے گا۔جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطر لاحق ہونے کا اندیشہ ہو۔“ اپنا کیس اقوام متحدہ کی مجلس امن میں پیش کر دیا۔چوہدری صاحب برما سے 7 جنوری 1948ء کو واپس کراچی پہنچے تو وزارت خارجہ کے ڈپٹی سیکرٹری نے جو آپ کے استقبال کے لئے آئے ہوئے تھے آپ کو ہندوستان کے مجلس امن میں قضیہ کشمیر پیش کر دینے کی خبر سنائی اور کہا کہ کیس کی سماعت کے لئے 11 جنوری کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔اس لئے آپ کو کل شام ہی ایک سکیس کے لئے روانہ ہونا ہو گا۔چنانچہ آپ دوسرے روز ہی اپنے اس نئے سفر پر روانہ ہو گئے۔اس بے سروسامانی میں کہ فائلیں اور کاغذات بکس میسر نہ آ سکنے کے باعث تھیلوں میں بند کر کے ساتھ لے جانا پڑیں۔محترم چوہدری صاحب اپنی خود نوشت سوانح 337