کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 332 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 332

میں ان کا مرتبہ وزیر اعظم کے بعد مقرر ہوا۔اس تقریب میں حضرت قائد اعظم نے چوہدری صاحب سے کہا کہ 4 / جنوری 1948ء کو برما کا جشن آزادی ہے۔جس میں آپ بحیثیت وزیر خارجہ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔چوہدری صاحب نے دبی زبان میں کہا آج کے اخبارات سے یوں معلوم ہوا ہے جیسے ہندوستان کا ارادہ قضیہ کشمیر کو مجلس امن میں پیش کرنے کا ہے۔جس کے لئے مجھے تیاری کرنا ہو گی۔کیا یہ مناسب نہ ہوگا کہ برما کے جشن آزادی میں کوئی اور وزیر نمائندگی کرے۔مگر قائد اعظم نے اُن کی تجویز سے اتفاق نہ کیا اور فرمایا کہ د نہیں۔آپ خود جائیں“ چوہدری صاحب پر اعتماد اس کا یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا کہ قائد اعظم کو مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور پیچیدگیوں کا پوری طرح احساس نہ تھا۔دراصل بانی پاکستان کو چوہدری صاحب کی فراست ، ذہانت اور محنت شاقہ ہی پر اعتماد نہ تھا بلکہ ان کے تعلق باللہ کا بھی یقین تھا اور وہ دل سے یہ سمجھتے تھے کہ خواہ کتنا ہی تھوڑا وقت ملے اللہ کا یہ بندہ باقی خلاء اپنے رب کے حضور عاجزانہ دعاؤں سے پورا کرلے گا۔اور یقیناً یہ بات بھی ان کے ذہن میں ہوگی کہ اس عالمی حیثیت کی تقریب میں پاکستان کے بیدار مغز وزیر خارجہ کا اجتماعی تعارف ہو جائے گا۔قائد اعظم کو چوہدری صاحب پر کس قدر اعتماد تھا۔اس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ جب ہندوستان نے اقوام متحدہ کو یہ غلط تاثر دینے کے لئے کہ کشمیر کے مسلمان باشندے حکومت ہند کے ساتھ ہیں۔شیخ محمدعبداللہ کو اپنے وفد کا رکن بنا کر اقوام متحدہ میں بھجوایا تو پاکستان نے ان کے مقابل پر سردار محمد ابراہیم کو (جو اس وقت حکومت آزاد کشمیر کے صدر مقرر ہو 336