کشمیر کی کہانی — Page 323
سے آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور الزامی جواب یہ ہے کہ۔۔۔جس حکومت کے جواب میں یہ آزاد حکومت کی گئی تھی۔جس کی نیو بیعانہ امرتسر پر اٹھائی گئی اور جس میں 22 لاکھ مظلوموں کو 50 لاکھ روپے کے عوض فروخت کر کے اُس کے سپرد کر دیا گیا کہ وہ جس طرح چاہے اُن کی جانوں، جسموں اور عصمتوں سے کھیلے۔کیا اس کا قیام اور کیا دھرا سب کچھ آئینی تھا۔آزاد کشمیر حکومت کے قیام کا جواز تو انہی آثار وشواہد سے واضح ہے کہ اس کے قیام کا اعلان سنتے ہی نہ صرف پاکستان میں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے کونے کونے میں اُس کا خیر مقدم ہوا۔ریڈیو پاکستان نے اس کے قیام کا بار بار اعلان نشر کیا۔پاکستانی اور بیرونی پریس نے اس اعلان کو نمایاں طور پر شائع کیا۔مظلومین کشمیر نے یہ اعلان سنتے ہی مٹھائیاں تقسیم کیں۔گویا جمہور کے رد عمل نے بہ بانگ دہل اس قیام کے جواز کی تصدیق کر دی۔سوائے ہندوستان کے سیاسی پنڈتوں کے جن کے خرید نے اور بیچنے کے باٹ ہمیشہ مختلف رہے ہیں۔اور جس نے دیدہ دانستہ حکومت برطانیہ کے اعلان کو پس پشت ڈال کر کشمیر اور حیدر آباد کی ریاستوں پر بالجبر تسلط جمانے کے لئے دو مختلف طریقے اختیار کئے۔تاریخ سے نابلد لوگوں کی موشگافیوں کا کیا ہے۔4 اکتوبر 1947 ء کو آزاد حکومت قائم کر کے اور اُس کا اطراف و جوانب میں خیر مقدم ہونے کے بعد جب اس کے پہلے صدر پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق سری نگر تشریف لے گئے اور اُن کے بعد حکومت کی تنظیم نو عمل میں آئی اور اُن کی جگہ سردار محمد ابراہیم خاں آزاد کشمیر حکومت کے دوسرے صدر مقرر ہوئے۔تو مجھے خوب یاد ہے۔اس کی تائید میں لاہور میں ایک جلسہ کا انعقاد ہوا جس میں ایک مقرر نے در دو سوز سے یہ تحریک 327