کشمیر کی کہانی — Page 309
باب چهارم حکومت آزاد کشمیر کا قیام ” جب یہ ذمہ داری پہلے (4/ اکتوبر کو ) خواجہ غلام نبی گلکار المعروف بہ انور کے اور پھر 24 /اکتوبر کوسردار محمد ابراہیم خان کے سپرد کی گئی تو ان دونوں میں سے کسی نے بھی مسلم کا نفرنس کی مجلس عاملہ کے بعض دوسرے ارکان کی طرح یہ غذ رلنگ پیش نہیں کیا کہ ہمارے تو رشتہ دارا بھی ریاست کشمیر میں بیٹھے ہیں اس لئے ہمیں اس ذمہ داری سے باز رکھا جائے۔“ برطانوی حکومت نے اپنے اعلان میں ریاستوں کو جو یہ رعایت دی تھی کہ وہ پاکستان یا ہندوستان (جس مملکت سے چاہیں الحاق کر سکتے ہیں ) جونا گڑھ نامی ریاست کے والی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا جونا گڑھ اور کشمیر میں یہ مشابہت تھی کہ اگر کشمیر کا سر براہ ہندو اور رعایا کی اکثریت مسلمان تھی تو جونا گڑھ کا نواب مسلمان تھا۔اور رعایا کی اکثریت ہند و یعنی غیر مسلم تھی۔ہندوستان کی حکومت نے یہ سنا تو چراغ پا ہوگئی وہ بھلا یہ کیونکر برداشت کر سکتی تھی کہ ایک چھوٹی سے چھوٹی ریاست بھی اُس کے چنگل سے نکل جائے۔چنانچہ اُس نے اس شوشہ کو ہوا دیتے ہوئے کہ نواب آف جونا گڑھ نے اپنی رعایا کی اکثریت کی منشاء کے خلاف الحاق کا فیصلہ کیا ہے۔فوراً بمبئی میں سمل داس گاندھی کی صدارت میں جونا گڑھ کی ایک متوازن حکومت قائم کر دی۔ظاہر 313