کشمیر کی کہانی — Page 302
سرحد پر معراجکے کے محاذ پر متعین کیا گیا۔جہاں پر بھارتی بمباروں کی بمباری روز کا معمول تھا۔اور بھارتی توپوں کی مسلسل گولہ باری کے باعث سارے علاقے میں بے دلی اور ہراس پھیلا ہوا تھا۔معراجکے کا محاذ کمپنی کے نوجوان معراجکے پہنچتے ہی اپنے مورچوں میں ڈٹ گئے پہلی رات ہی سے پٹرولنگ کا نظام قائم ہو گیا اور ان دیندار منچلوں کی جرات آفرینیوں سے چند ہی دنوں میں آس پاس کے دیہات میں اعتماد کی فضا بحال ہوگئی۔بلکہ ایک دن ایک دست بدست جھڑپ میں (جس میں دشمن کے کئی فوجی کھیت رہے ) اس پلاٹون کے دو نوجوان برکت علی (آف دانه زید کا ضلع سیالکوٹ اللہ رکھا ( آف جسو کے ) نے داد شجاعت دیتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔یہ ہے پلاٹون جذ بہ جہاد سے سرشار معراجکے کے محاذ پر دشمن سے پنجہ آزما تھی کہ اس کی جراتوں اور ولولوں سے متاثر ہو کر حکومت کی طرف سے حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں ایک پوری بٹالین عطا کرنے کی درخواست کی گئی۔ایک ایسی رضا کار بٹالین جس کے فوجی اپنی گرہ سے کھائیں۔ان کے تمام خرچے جماعت احمد یہ برداشت کرے اور وہ اپنی جانیں تحفظ و سلامتی وطن کے لئے قربان کریں۔مادر وطن کی پکار پر کسی سوچ بچار کی گنجائش ہی کہاں تھی اس پر مستزاد آزادی و رستگاری اہل کشمیر کے لئے حضرت امام جماعت احمدیہ کی تڑپ آپ نے فوراً حامی بھر لی اور یہ اپنی خواہش احباب جماعت تک پہنچائی۔اولین فرصت میں حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد المعروف بہ فاتح الدین کی قیادت میں رضا کاروں کی بھرتی کے لئے ایک کمیٹی نامزد کر دی 306