کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 290 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 290

مسٹر جسٹس دین محمد صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اس معاملہ کوخود حاضر ہو کر کسی طرح قائد اعظم کے گوش گزار کر دیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔جس پر قائد اعظم کی ہدایت کے تحت چوہدری محمد علی دہلی میں لارڈ اسمے سے ملنے گئے۔چوہدری محمد علی نے لارڈ اسمے سے اپنی اس ملاقات کا ذکر اپنی تالیف (Emergence of Pakistan) میں قدرے تفصیل سے کیا ہے۔وہی حد بندی لائن چوہدری محمد علی لارڈ ا سمے سے ملنے وائسرائے لاج میں گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بند کمرے میں ریڈ کلف سے بات چیت کر رہے ہیں۔معلوم نہیں اُن کی گفتگو کا یہ سلسلہ کتنے عرصہ سے جاری تھا۔چوہدری محمد علی کے پہنچنے کے ایک گھنٹہ بعد جب ریڈ کلف باہر نکلے تو چوہدری صاحب فور الارڈ استے کے کمرے میں پہنچ گئے اور انہیں قائد اعظم کا پیغام دیا کہ ہمیں یہ تشویش ناک خبر ملی ہے۔“ اُس نے جواب میں کہا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو قطعاً علم نہیں ہے کہ ریڈ کلف کے حد بندی کے بارے میں کیا خیالات ہیں۔چوہدری صاحب نے قدرے تفصیل سے بتایا کہ قائد اعظم کو اس سلسلہ میں کیا رپورٹیں پہنچی ہیں۔مگر اسے کچھ ایسے تاثر دیتے رہے جیسے چوہدری صاحب کی بات اُن کے پلے نہیں پڑ رہی اسی اثناء میں چوہدری صاحب کی نظر اُس نقشہ پر جاپڑی جو کمرہ کی دیوار کے ساتھ لٹک رہا تھا چوہدری صاحب اسے کو نقشے کی مدد سے اپنی بات ذہن نشین کرانے کے لئے انہیں نقشہ کے پاس لے گئے۔نقشہ کو دیکھتے ہی اُن کی حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ اُس نقشہ پر بھی پنسل سے ایک لکیر لگی ہوئی تھی۔اور یہ لیکر اس لکیر کے مطابق تھی جو مسٹر جسٹس دین محمد نے چوہدری محمد ظفر اللہ خان کے سامنے بیان کی تھی۔(یعنی گورداسپور کی تحصیلیں بٹالہ اور گورداسپور بھی ہندوستان میں دکھائی گئی تھیں نیز امرتسر اور جالندھر کے ضلعوں کے بعض مسلم اکثریت والے ایسے علاقے بھی جو پاکستان سے ملحق تھے۔گویا پائلٹ کو دی جانے والی لکیر اس نقشہ والی لکیر ہی کا چربہ تھا۔) چوہدری صاحب نے اس لائن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اب کسی وضاحت کی ضرورت باقی 294