کشمیر کی کہانی — Page 291
نہیں رہی۔“ چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں: (ترجمہ) '' اسے کا رنگ فق ہو گیا اور وہ کھسیانا ہو کر کہنے لگا نہیں معلوم میرے نقشہ میں یہ گڑ بڑ کس نے کی ہے۔“ (Emergence of Pakistan p 219 by Mohamad Ali) باؤنڈری کمیشن اب میں پھر باؤنڈری کمیشن کی کارروائی کی طرف لوٹتا ہوں۔کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے کے لئے بہت تیاری کی ضرورت تھی کیونکہ اس سلسلہ میں ابھی تک ابتدائی کام بھی نہیں ہوا تھا۔پنجاب مسلم لیگ کے سربراہ نواب افتخار حسین خان آف ممدوٹ تھے جن کی شرافت، اخلاص اور ایثار و قربانی میں کچھ کلام نہ تھا۔لیکن وہ ایسے کاموں کا تجربہ نہ رکھتے تھے۔نہ نو جوانی کے باعث سیاست پر اتنی غواص نظر رکھتے تھے کہ ہوشیار چالباز اور منجھے ہوئے کانگرسیوں اور برطانوی گرگوں کی خفیہ چالوں کو بھانپ کر ان کا شایان شان تدارک کر سکیں تاہم قوم کا درد رکھنے والے بعض بالغ نظر مسلمان آگے آئے مثلاً خواجہ عبدالرحیم لیکن وہ سرکاری ملازم تھے اور کمشنر ہونے کے باعث خود سامنے آکر کام نہ کر سکتے تھے۔تاہم انہوں نے اپنے طور پر کیس کا ایک حصہ تیار کر لیا ہوا تھا جو کیس پر بحث کے دوران کارآمد ثابت ہوا۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد (امام جماعت احمدیہ ) جو پہلے بھی کشمیری قوم کے لئے گراں نما یہ خدمات انجام دے چکے تھے اور کشمیر کا ہر ذی شعور فرزند بجاطور پر انہیں اپنا محسن سمجھتا تھا اُنہوں نے اس مشکل گھڑی میں بھی رضا کارانہ طور پر اس کیس کو دامے، درمے، قدمے، سخنے 295