کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 160 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 160

نے جتھے بنا کر اکاڈ کا مسلمانوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔اور مسلمانوں کی دکانوں کو فوج کی موجودگی میں لوٹنا شروع کر دیا۔ہندو مسلمانوں کو تباہ و برباد کر رہے تھے۔لیکن فوجی سپاہی پاس کھڑے دیکھتے رہے۔اگر چہ بعد میں فوج کو شہر کے مختلف حصوں میں متعین کر دیا گیا۔لیکن ہندوؤں کی چیرہ دستیاں کئی دنوں تک بدستور جاری رہیں۔“ محکمہ پولیس میں اندھیر گردی پولیس جو ملک میں امن قائم رکھنے۔بدامنی کو روکنے اور رعایا کے ہر فرد کی جان۔مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے مقرر کی جاتی ہے۔اس کے متعلق مسٹر مڈلٹن کے یہ الفاظ بہت اہمیت کے حامل ہیں۔وہ اپنی رپورٹ میں تجویز کرتے ہیں:۔66 وو محکمہ پولیس کی حالت بہت افسوس ناک ہے۔ضرورت ہے کہ اس محکمہ کو نئے سرے سے باقاعدہ منظم کیا جائے۔۔۔اپنی رپورٹ میں مسٹر مڈلٹن نے تسلیم کیا کہ مسلمانوں کو واقعی شکایات تھیں اور لکھا کہ اس امر کی سخت ضرورت ہے کہ رعایا کی تکلیفوں کو پوری طرح تحقیقات اور ان کے ازالہ کی کوشش کی جائے۔۔گویا گلینسی کمیشن کی ضرورت واہمیت کو بھی واضح الفاظ میں تسلیم کر لیا۔ملاپ کو بھی ماننا پڑا مسٹر مڈلٹن کی رپورٹ کا یہ اثر ہوا کہ ملاپ ایسا متعصب اخبار بھی یہ لکھنے پر مجبور ہوا کہ:۔اگر جموں کے افسران اور حکام وقت پر تدارک کر لیتے تو جموں میں کوئی خرابی ہی پیدا نہ ہوتی۔جموں کے معززین جموں کے وکلاء اور جموں کے باخبر لوگ لمحہ لمحہ کی اطلاع حکام کو دیتے رہے اور حکام یہ کہہ کر ٹال 164