کشمیر کی کہانی — Page 11
بسم الله الرحمن الرحيم عرض مؤلف میں نہ ادیب ہوں نہ قلم کار اور نہ کوئی چھوٹا یا بڑا انشا پرداز۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے گا ہے ما ہے ملک کے جرائد ورسائل میں بعض موضوعات پر مضامین لکھنے کا موقع ضرور ملتا رہا لیکن چند مضامین لکھ کر نہ کوئی شخص ادیب بن سکتا ہے نہ مصنف ومولف۔یہی حال میرا ہے اس پر بھی میری علمی بے بضاعتی کو “ لکھنے کا حوصلہ کیونکر ہوا۔سچ پوچھیں تو اس کا اصل باعث صرف اور صرف ایک اہم ترین قومی امانت کو قوم کے سپر د کر دینے کے شدید احساس کے سوا اور کچھ نہیں۔میرے وہ قابل صد احترام بزرگ اور ملت اسلامیہ کی وہ مقتدر ہستی جو اس کہانی کی روح درواں ہے اور جن کے ہاتھوں اس کہانی کی داغ بیل پڑی اپنی ان گنت ملی مصروفیات کے باعث اپنی بابرکت زندگی میں ان اوراق کو یکجا طور پر شائع کرنے کی فرصت نہ نکال سکے بسا ممکن ہے ان کا بلند ضمیر اس لئے بھی اس طرف متوجہ نہ ہوا ہو کہ یہ ساری کہانی تو انہی کی بے لوث و پُر خلوص مساعی جلیلہ کے گرد طواف کر کے کہانی کے مقام تک پہنچتی تھی۔حتی کہ قضا و قدر کا بلا وا آ گیا اور اُن کی پاکیزہ روح ”لبیک یا حبیبی ” لبیک یا حبیبی پکارتی ہوئی اپنے رفیق اعلیٰ کی طرف پرواز کر گئی۔اور اُن کے کتنے ہی وہ با اعتماد مخلص رفقاء کا ر بھی اللہ کو پیارے ہو گئے جنہوں نے اپنے بیدار مغز قائد کی رہنمائی میں حریت وایثار کا یہ پودا اپنے خون سے سینچا 15