کشمیر کی کہانی — Page 87
بوٹ میں اُٹھ آئے۔تاریخی ٹائپ رائٹر اور تاریخی میموریل میں نے آتے ہی اپنے کمرہ میں دفتر لگا لیا۔ہم دفتر کا تمام ضروری سامان اور ٹائپ رائٹر وغیرہ ساتھ لے گئے تھے۔یہ وہ تاریخی ٹائپ رائٹر تھا۔جس نے کشمیریوں کی امداد میں لاکھوں لفظ ٹائپ کئے۔حتی کہ اُن کا وہ تاریخی میموریل بھی اسی پر ٹائپ ہوا۔جو مہاراجہ کو پیش کیا گیا۔جس کے نتیجہ میں کشمیریوں کو ان کے ابتدائی انسان حقوق ملنے شروع ہوئے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا دفتر پورے زور سے حرکت میں آ گیا۔یہ ہاؤس بوٹ ریاست اور معاندین کے لیے ہوا بلکہ بارود خانہ تھا۔اور مظلوم مسلمانوں کے لیے رحمت و شفقت کا نشان۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے لمبے اور گہرے مطالعہ اور نمائندگان کشمیر کے مشورہ سے مطالبات کا جو مسودہ انگریزی زبان میں تیار کیا تھا۔وہ ان کے سپر د اس غرض سے کر دیا گیا۔کہ اس پر پورے گیارہ نمائندے پھر غور کریں۔اور اگر کسی جگہ ترمیم کی ضرورت سمجھیں تو کرلیں۔جس مخالف پارٹی کا ذکر اوپر آرہا ہے۔اس کے لیڈر بھی سری نگر میں مقیم تھے نمائندگان کشمیر نے ان کے ایک نمائندہ اور آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری مولانا درد کو مدعو کیا کہ وہ دونوں اس بارہ میں نمائندگان کو خطاب کریں۔خواجہ سعد الدین شال کے مکان واقع محلہ خان یار میں اجلاس ہوا۔ہم لوگ بھی وہاں گئے۔ہر دو کی تقاریر سننے کے بعد نمائندگان کشمیر نے فیصلہ کیا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی والا مسودہ ہی درست ہے۔۔۔اس لیے اس میں اگر کسی جگہ معمولی ترمیم ضروری ہو تو کر لی جائے۔کئی گھنٹہ کے غور وفکر کے بعد نمائندگان کشمیر نے اس میں بعض معمولی ترامیم کیں۔جن کی زبان کی تصحیح کا فرض مولا نا در داور یعقوب خاں 91