کشمیر کی کہانی — Page 86
موجود تھے۔دوسرے روز دو پہر ہم سری نگر کی چیکنگ پوسٹ پر پہنچے۔تو ریاست کا ایک سیکرٹری کارلیکر موجود تھا۔مولانا عبد الرحیم درد کے متعلق دریافت کر کے اُن سے ملا۔اور درخواست کی آپ لوگوں کی رہائش کا انتظام ریاست کے بڑے گیسٹ ہاؤس میں ہے اور میں کار لے کر آپ کو لینے کے لیے آیا ہوں۔وزیر اعظم نے مجھے بھیجوایا ہے۔۔۔۔مولا نا درد نے جواب دیا۔کہ ہم تو اُن کے مہمان ہیں۔جنہوں نے ہمیں بلوایا ہے۔اس نے بہتیر ز ور مارا۔لیکن محترم درد صاحب کو نہ ماننا تھانہ مانے اور ہم چیکنگ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد اپنی کرایہ والی کا رہی سے امیرا کدل پہنچے۔جہاں شیخ محمد عبد اللہ اور اُن کے رفقاء استقبال کے لیے موجود تھے۔سب بہت خوشی سے ملے۔اُن کے حوصلے بلند ہو گئے۔امیر کدل میں ایک چوبارہ پر ہماری رہائش کا انتظام تھا۔وہاں ہمیں اُتارا گیا۔نمازوں اور ناشتہ کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔شیخ صاحب نے والٹیئر ز مقرر کر رکھے تھے کہ صرف ضروری لوگ ہی آکر ملاقات کریں۔اور ہجوم نہ ہو۔دوسرے روز صبح سویرے درد صاحب مرحوم مجھے ساتھ لیکر بظاہر سیر کے لیے بند کی طرف گئے۔دو تین ہاؤس بوٹ دیکھے ایک ہاؤس بوٹ نہایت موزوں جگہ ( آبی گزر ) پر کھڑا تھا پسند آ گیا۔اس کا ماحول صاف ستھرا ہونے کے علاوہ ڈاک خانہ اور تار گھر میں یہاں سے بالکل قریب تھے۔اور شہر بھی زیادہ دور نہ تھا۔کرایہ وغیرہ طے کر کے ہم جائے رہائش پر پہنچے۔شیخ محمد عبد اللہ بعض دوسرے نمائندگان وہاں موجود تھے۔مولا نا درد نے اُن کو بتادیا کہ ہم نے چونکہ یہاں ٹھہرنا ہے۔کافی دن لگ جائیں گے۔اس لیے میں نے ہاؤس بوٹ کرایہ پر لے لیا ہے۔نمائندگان نے اصرار کیا کہ آپ یہیں ٹھہریں۔لیکن مولانا درد کے سمجھانے پر مان گئے۔اور ہم وہاں سے ہاؤس 9 90