کشمیر کی کہانی — Page 82
۔بزرگوں اور بچوں تک پہنچا دیا جائے۔کہ حکومت کشمیر ہمارے خلاف ” ہمارے بھائیوں کے ذریعے سے ہندوستان اور پنجاب میں جو پرا پیگنڈہ کر رہی ہے۔اور جو گمراہ کن خبریں ہمارے خلاف آج تک شائع کرائی گئی ہیں ان سے ہرگز متاثر نہ ہوں۔ہم ابھی تک مظلوم ہیں۔اور ہمیں نشانہ ظلم و ستم بنایا جارہا ہے۔۱۳ / جولائی سے آج تک ہمیں ایک منٹ بھی حکومت نے چین سے نہیں بیٹھنے دیا ”ہمارے چند بھائیوں اور ایک مسلم اخبار نے بجائے ہماری حمایت کرنے کے الٹا حکومت کشمیر سے مل کر ہمیں بدنام کرنا اور ہم سے حمایت کرنے والوں کی مخالفت کرنا اپنا نصب العین بنالیا ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمارے ساتھ ہمدردی رکھنے والا کوئی نہیں۔ہمیں اس بات کا رنج نہیں ہے۔کیونکہ ہر قوم میں چند قوم فروش بھی ہوتے آئے ہیں اور ابتدائے آفرینش سے آج تک اسلام میں منافقین کی ایک جماعت ضرور پائی جاتی ہے۔“ امام مسجد لندن کی مساعی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے محترم صدر کی ہدایات کے ماتحت خاں صاحب مولانا فرزند علی امام لندن مسجد ) جو کوششیں انگلستان میں کر رہے تھے وہ بہت ہی قابل قدر تھیں۔آپ نے ہز ہائی نس سر آغا خاں ، سر میاں محمد شفیع ، ڈاکٹر سر محمد اقبال، چودھری محمد ظفر اللہ خاں اور مولانا شفیع داؤدی کو (جو ان دنوں لندن میں تھے ) تحریک کی۔کہ وہ فرداً فرداً وزیر ہند سے ملیں۔اور انہیں کشمیر کے متعلق پر زور توجہ دلائیں۔چنانچہ ان سب لیڈروں نے وزیر ہند سے مل کر اس امر پر زور دیا۔چودھری محمد ظفر اللہ خاں نے تو اس سلسلہ میں کئی بار وزیر ہند سے ملاقات کی۔86