کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 68 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 68

بن جائیں اور مسلمانوں کی کثرت رائے کے ماتحت چلنے کا اقرار کریں۔اگر وہ اس امر کے لئے تیار ہو جائیں تو میں فوراً صدارت سے مستعفی ہو جاؤں گا۔لیکن وہ اس کے لئے بھی آمادہ نہ ہوئے بہر حال یہ لوگ میدان میں کود پڑے۔اور آئندہ کے واقعات بتائیں گے کہ انہوں نے مسلمانوں کے مقصد وموقف کو فائدہ پہنچایا۔یا ان کی یہ سیاسی شورہ پشتی سراسراس تحریک کے لئے نقصان کا باعث ثابت ہوئی۔سیالکوٹ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اجلاس ۱۲ ۱۳ دسمبر ۳۱ء کو سیالکوٹ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اجلاس تھا۔اس میں شمولیت کے لئے محترم صدر کمیٹی ار تاریخ کو بعد دو پہر گاڑی کے ذریعہ روانہ ہوئے ( راقم الحروف کو بھی اس سفر میں ہر وقت آپ کے ساتھ رہنے کا شرف حاصل ہوا اور اس نے سب حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے ) بٹالہ۔ویرکا اور ڈیرہ بابا نانک کے اسٹیشنوں پر لوگ بڑی کثرت سے خوش آمدید کہنے کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔ہر اسٹیشن اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اُٹھا تھا۔پلیٹ فارم لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور اسٹیشن کے باہر آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے۔کشمیر ڈے کے موقع پر یہ بات واضح کر دی گئی تھی۔کہ کشمیر کا سوال ہندو مسلم سوال نہیں۔اس لئے ہندوؤں۔سکھوں اور مسلمانوں کو مل کر کوشش کرنی چاہیے کہ کشمیریوں کو ان کے جائز حقوق مل جائیں۔اس کا اثر ہندو اور سکھ شرفاء پر بہت اچھا ہوا۔جس کا مظاہرہ انہوں نے نارووال کے اسٹیشن پر صدر محترم کے شاندار استقبال میں سرگرمی سے حصہ لے کر کیا۔صدرِ محترم کے قیام کا بندوبست ڈاک بنگلہ میں کیا گیا تھا۔آپ اسٹیشن سے جلوس کی صورت میں پیدل وہاں تشریف لے گئے۔راستہ پر دونوں طرف لوگ موجود تھے اور خوشی سے نعرے لگا رہے تھے۔چھتوں پر عورتیں اور بچے بیٹھے نعرہ ہائے مسرت نچھاور کر رہے تھے۔72