کشمیر کی کہانی — Page 67
لیکن اس کے باوجود اُس مشار الیہ طبقہ نے اپنی ایک علیحدہ پارٹی بنا کر قوم میں شقاق پیدا کرنے کی کوشش کیوں کی؟ یہاں اس امر کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کے ساتھ ہی اس کمیٹی کے صدر نے اس پارٹی کے دو لیڈروں کو بھی کمیٹی میں شمولیت کی دعوت ( خطوط کے ذریعہ ) دینے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے ایک قریبی دوست مولانا اسماعیل غزنوی کو مقر رکیا تھا کہ وہ انہیں کمیٹی میں شامل ہونے کی تحریک کریں۔لیکن اس وقت وہ نہ مانے تھے شاید اس لئے کہ اس وقت ابھی اس مسئلہ میں اتنی حرارت نہ پیدا ہوئی تھی اور ذاتی سیاسی منفعتوں کے پھلنے پھولنے کی گنجائشیں کم تھیں۔اب آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی مساعی کے طفیل مظلومین کشمیر کی داستان درد ہر ذی شعور کی زبان پر تھی۔علیحدہ پارٹی بنانے کے جواز میں صرف ایک ہی دلیل دی جاسکتی ہے کہ ان لوگوں کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے صدر سے مذہبی امور میں اختلاف تھا۔لیکن سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے جواہر لعل نہرو۔مسٹر گاندھی۔سبھاش چندر بوس اور پٹیل ایسے لوگوں کو اپنا سیاسی پیر ما نا ہوا تھا۔وہ ایک کلمہ گو کی قیادت میں کیوں کام نہ کر سکتے تھے۔۔۔۔! جس شخص کو کسی قسم کی نام و نمود کا خیال نہ ہو۔اور اس کی قطعی غرض خدمت قوم ہی ہو کیا اُس کے کام کرنے کے یہی انداز ہوتے ہیں؟۔۔۔۔۔صدر محترم کشمیر کمیٹی نے اس موقع پر اس قدر فراخ حوصلگی کا مظاہرہ فرمایا کہ فوراً ڈاکٹر سر محمد اقبال۔مولوی محمد اسماعیل غزنوی اور مولانا غلام رسول مہر کو خطوط لکھے کہ اگر اس طبقہ کو میرے صدر ہونے پر اعتراض ہو۔تو آپ انہیں تیار کریں کہ وہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے رکن 71