کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 51 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 51

جاتا۔خان بہادر صاحب مسٹر لیستی کو چائے پر بلاتے اور وہ نوٹ دے دیتے۔اسے پڑھنے کے بعد اگر اس کے متعلق کوئی چیز وضاحت طلب ہوتی تو صدر محترم سے ٹیلیفون پر بات کرلی جاتی۔الغرض اس طرح رفتہ رفتہ انگریزی پریس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی سرگرمیوں کا خوب چرچا ہونے لگا جس سے متاثر ہو کر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی اپنے رویہ میں تبدیلی کرنا پڑی۔مسلم پریس کا تعاون مسلم پریس میں کمیٹی کی مہم کے ساتھ تعاون میں روزانہ انقلاب“ پیش پیش تھا۔ریاست نے ارادہ کیا کہ ”انقلاب پر سرکاری عدالت میں مقدمہ چلا جائے اس کی اطلاع ملتے ہی محترم صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ”انقلاب“ کو یہ تار دیا۔وو مجھے یہ سُن کر بہت مسرت ہوئی کہ حکومت کشمیر انقلاب کے خلاف مقدمہ چلانا چاہتی ہے۔اگر ایسا ہوا تو ہمیں موقع ملے گا کہ ہم کشمیر کے مظالم کو انگریزی عدالت میں بے نقاب کر سکیں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو اس سلسلہ میں میری ہر قسم کی تائید حاصل رہے گی۔۔۔اور مولانا عبد الرحیم صاحب در دسیکرٹری آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے حسب ذیل تار ”انقلاب“ کو بھیجوا د ما:۔یہ خبر کہ حکومت کشمیر انقلاب کے خلاف مقدمہ دائر کرنے والی ہے۔محض دھمکی معلوم ہوتی ہے اگر اُس نے مقدمہ دائر کر دیا تو آپ یقین رکھئے کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی انقلاب“ کی کما حقہ امداد حمایت میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہ رکھے گی۔ان تاروں کا اخبارات میں شائع ہونا تھا کہ ریاست کے حکام گھبرا گئے مہاراجہ کے بہی خواہوں نے انہیں مشورہ دیا کہ اس ارادہ کو ترک کر دیا جائے ایسا نہ ہو کہ نماز بخشواتے 55