کشمیر کی کہانی — Page 50
۱۸ ؍ جولائی ۳۱ء) ملک کی مشہور خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پر لیس ہندوؤں کے زیر اثر تھی۔اس لیے اُس کی طرف سے مسلمانوں کے لئے کلمہ خیر کی امید نہ تھی۔مگر جب اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو تمام بگڑے ہوئے کاج خود ہی سنورنے لگتے ہیں اور تمام ناسازگار حالات خود بخودساز گار ہوتے چلے جاتے ہیں۔خان بہادر شیخ رحیم بخش ریٹائر ڈسیشن جج آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے رکن بن چکے تھے۔شملہ میں ان دنوں وہ سیسل ہوٹل میں مقیم تھے ) اُن کے کمرہ سے ملحقہ کمرہ میں مسٹر لیسی ایک انگریز بھہرے ہوئے تھے۔وہ انگلستان کے بعض مشہور اخبارات کے نامہ نگار اور دہلی کے مشہور انگریزی روز نامہ سٹیٹمین“ کے شملہ میں خاص نمائندہ تھے۔خان بہادر صاحب جب اجلاس سے فارغ ہو کر ہوٹل میں واپس آئے تو انہوں نے مسٹر لیسی کو تمام حالات سے آگاہ کیا مسٹرلیستی نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے قیام کی خبر سٹیٹمین “ کے علاوہ ولایت کے اخبارات کو بھی بھجوائی۔بلکہ ساتھ ہی خواہش ظاہر کی کہ ان کی ملاقات صدر آل کشمیر انڈیا کمیٹی سے کرا دی جائے۔خان بہادر صاحب نے فوراً ملاقات کا انتظام کر دیا۔وہ اس ملاقات سے اس قدر متاثر ہوئے کی انہوں نے آخر میں کہا کہ:۔وو آپ جو بھی خبر بھجوایا کریں گے میں اخبارات کو بھجوادیا کروں گا کیونکہ مجھے یقین ہو گیا 66 ہے کہ آپ دلی جذبہ کے ساتھ کشمیریوں کی امداد کر رہے ہیں۔۔۔اس کے بعد روزانہ خبروں کا نوٹ تیار ہوتا۔راقم الحروف اُسے لیکرسیسل ہوٹل پہنچ 54