کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 49 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 49

میں نہایت ہی قلیل حصہ دیا جاتا ہے۔جو تین فی صد بھی نہیں بنتا۔حالانکہ مسلمانوں کی آبادی جموں وکشمیر میں ستر فی صد سے زائد ہے۔اس کے علاوہ لا تعداد حق تلفیاں ہیں۔مسلمانانِ کشمیر جن کے مورد ہیں۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت کا اعزاز پیش ہونے کے بعد وہ بزرگ جو کل تک پس پردہ دامے درمے۔قدمے سخنے مظلومین کشمیر کے لئے کوشاں تھے۔اب ظاہر ہوکر میدانِ عمل میں اتر پڑے۔۔۔زعماء ہند کے اس فیصلہ کو نہ صرف کشمیر کے ہر حصہ میں خوشی ومسرت کے ساتھ سُنا گیا۔ہندوستان کے ہر طبقہ کے مسلمانوں نے بھی سراہا اور دلی تعاون کی پیش کش کی۔ہند و پریس کا رویہ ہر چند یہ ہندو مسلم سوال نہ تھا۔مسلمان ریاستی حکومت سے صرف اپنے حقوق ہی مانگ رہے تھے۔لیکن چونکہ ریاست کا حاکم ہندو تھا۔ہندو پریس نے کانگرس کے اصولوں کو بھی نظر انداز کر دیا اور اس ایجی ٹیشن کو براہ راست ہندوؤں کے خلاف مہم قرار دے کر مہاراجہ کی پُرزور حمایت شروع کردی۔۔۔۔! مظلوم نہتے مسلمانوں کو باغی اور فسادی قرار دیتے ہوئے ایک اخبار نے ریاست کو مشورہ دیا کہ:۔باغیوں کو ایسی عبرت ناک سزائیں دی جائیں جو دوسروں کے لئے تازیانہ عبرت ہوں۔۔۔( پرتاب ۷ ا ر جولائی ۳۱ء) دوسرے نے لکھا:۔سخت ہاتھ کے ساتھ فسادات کو کچل کر رکھ دینے کی ضرورت ہے۔۔۔( پرتاب 53 53