کشمیر کی کہانی — Page 349
مؤلف تاریخ کشمیر کی رائے حکومت آزاد کشمیر نے یہ اہتمام خاص اپنے چیف جسٹس خواجہ محمد یوسف صراف سے تاریخ کشمیر مرتب کرائی جو (Kashmiries Fight for Freedom کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔یہ تاریخ 1413 صفحات پر مشتمل ہے اور دوجلدوں میں شائع ہوئی ہے۔جس میں پاکستان کے بانی (حضرت قائد اعظم) کے معتمد ترین رفیق کار اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان کی قضیہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں مساعی جمیلہ کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں: ترجمہ ”ہندوستان کے اقوام عالم میں چلے جانے پر ہم میں سے اکثر فکر مند ہو گئے تھے۔مبادا مجلس امن پر مسلط بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات حکومت پاکستان کو ہمارے اور ہماری آزادی کے مابین آڑے آنے پر مجبور نہ کر دے۔اس اہم سیاق وسباق کے پیش نظر سرظفر اللہ خان کی سربراہی میں پاکستانی وفد کے درخشندہ کردار کا جائزہ لینا ہوگا۔سر ظفر اللہ کی انتہائی فاضلانہ بحث کے نتیجہ میں جو آپ نے ہمارے کیس کے سلسلہ میں فرمائی۔(ہندوستان کی ) سراسر کذب وافترا اور میکاولی ( شاطرانہ چال) پر مبنی شکایت کی قلعی کھل گئی۔“ جسٹس صراف صفحہ 1050) قارئین باتمکین ! اقوام متحدہ آج بھی موجود ہے۔اور اس کی قرار دادیں بھی لیکن کشمیر کی درد ناک کہانی جہاں سے شروع ہوئی تھی اب بھی وہیں رکی کھڑی ہے۔اور 353