کشمیر کی کہانی — Page 350
میرے نزدیک یہ کشمیری قوم ہی کے لئے نہیں دعویداران قیام امن عالم کے لئے بھی لمحہ فکر یہ ہے۔خدا کی گرفت میں بھی کے اس باب کو چوہدری محم ظفر اللہ خاں کے ان الفاظ ہی پرختم کرتا ہوں جو میرے نزدیک آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں۔فرمایا: آزادی حاصل کرنے کے لئے کشمیریوں کو حق خود اختیاری دلانے کے لئے پاکستان کی مساعی اور قیام امن کے لئے مجلس امن کی تجاویز کو تو ہندوستان نے اب تک کچھ طاقت سے، کچھ جبر سے اور کچھ تلیس و فریب سے زائل و بے اثر کر دیا ہے۔بے شک اس کے نتیجہ میں بین الاقوامی حلقوں میں اپنا وقار کھو چکا ہے۔بظاہر ہندوستانی ارباب حل و عقد نے اسے سستا سودا سمجھا ہے۔لیکن وہ ایک حقیقت کو بھولے ہوئے ہیں۔جس کے ایک پہلو کو شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔بترس از آه مظلوماں کہ ہنگام دعا کردن اجابت از در حق بهر استقلال می آئید کشمیر کی مسلمان آبادی ایک صدی سے زائد عرصہ تک ڈوگرہ مظالم کا شکار رہی اور اُس کے بعد زائد از بیس سال ( اور اب تو زائد از چونتیس سال ہونے لگے ہیں مؤلف ) ”ہندوستانی مظالم سہہ رہی ہے۔ان مظالم میں تخفیف ہونے کے بجائے ان کی شدت بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ کسی ملک کسی قوم کسی گروہ کسی فرد، کا محض ان کے نام کی وجہ سے حمائتی نہیں۔اس کی شان اس سے بہت بلند ہے۔لیکن وہ حق اور راستی ، امن اور انصاف ، شفقت اور رحم، 354