کشمیر کی کہانی — Page 330
بچا کر گرتے پڑتے پاکستان کے گھاٹ آگئے۔جنگ سنگھ کے بعد جب یہ شیطانی منصو بہ ایک بڑی حد تک کامیاب رہا تو جرنیل جنگ سنگھ کو بھی جواب دے دیا گیا۔اور دو اہم تقرریاں کی گئیں۔پہلی یہ کہ کانگریس کے معتمد اور مسلمانوں کے دشمن مسٹر جسٹس مہر چند مہاجن کو کشمیر کا وزیراعظم اور مسٹر کو پالا سوامی آئنگر کو جو سات سال تک ریاست کے وزیر اعظم رہ کر مسلمان دشمنی میں اپنا نام پیدا کر چکے تھے۔اور جن کے پہنچائے ہوئے زخموں سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا۔بھارت کی حکومت میں وزیر بے محکمہ کے طور پر شامل کر لیا گیا۔اس بات کا ذکر کیا جا چکا ہے کہ جب 4 اکتوبر 1947ء کو حکومت آزاد کشمیر کا قیام عمل میں آیا تو پنڈت نہرو نے اس خبر پر بوکھلا کر فوراً ہندوستانی فوجیں ریاست میں داخل کر دیں لیکن مجاہدین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔جس پر ہندوستان نے واویلا مچانا شروع کر دیا۔فیڈرل کورٹ سے استعفے چوہدری محمد ظفر اللہ خان تقسیم ہند سے قبل فیڈرل کورٹ آف انڈیا میں سینئر جج تھے۔جون 1947ء میں جو نہی تقسیم ہند کے منصوبہ کا اعلان ہوا۔وہ فوراً اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے۔نواب آف بھوپال ان دنوں دہلی ہی میں مقیم تھے۔جب انہیں چوہدری صاحب کے مستعفی ہو جانے کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً ان سے اپنے مشیر قانونی کی حیثیت سے بھوپال تشریف لے چلنے کی پیش کش کی جسے چوہدری صاحب نے منظور فرمالیا۔چوہدری صاحب نواب صاحب کے ساتھ منسلک رہنے کا کل عرصہ چھ ماہ بنتا ہے جس میں سے چار ماہ کے قریب موصوف حضرت قائد اعظم کے ایما پر پہلے باؤنڈری کمیشن میں اور پھر اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستانی وفد کے قائد کی حیثیت سے مصروف رہے۔حتی کہ دسمبر 1947ء میں جب آپ قائد اعظم کی خدمت میں اقوام متحدہ میں 334