کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 329 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 329

عرصہ میں گاندھی جی کے وہاں جانے کے خفیہ انتظامات کر دیے گئے۔جو یکم اگست 1947ء کو سرینگر پہنچے۔مہاراجہ اور مہارانی کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ورغلایا۔ہندو تنظیموں سے ملے۔جن میں نیشنل کانفرنس بھی تھی۔کیونکہ اس کی حیثیت بھی کانگریس کی ایک وفا شعار کنیر سے زیادہ نہ تھی۔شیخ عبداللہ جیل میں تھے اور بخشی غلام محمد پارٹی کے کرتا دھرتا تھے۔گاندھی جی نے انہیں شرف ملاقات سے نوازا۔بخشی جی نے شیخ عبداللہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ان دنوں ریاست کے وزیر اعظم پنڈت رام چندر کاک تھے۔جو ریاست کے سینکڑوں اعلی تعلیم یافتہ اور سمجھدار ہندوؤں کی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں تھے۔چنانچہ گاندھی جی کے کشمیر سے واپس جاتے ہی پنڈت کاک کو وزارت عظمی سے سبکدوش کر دیا گیا۔اور ان کی جگہ ایک شدید قسم کے متعصب ڈوگرہ جرنیل جنگ سنگھ کو ریاست کا وزیر اعظم بنادیا گیا۔صرف اس لئے کہ وہ مسلم دشمنی میں یدطولیٰ رکھتا تھا۔اور اس کی پالیسی یہ تھی کہ قتل و غارت گری، آتش زدگی ، لوٹ مار اور غنڈہ گردی سے ریاست کے مسلمانوں کو اس قدر ہرساں کر دیا جائے کہ وہ ریاست چھوڑ کر پاکستان بھاگنے پر مجبور ہو جائیں۔اور ریاست کشمیر میں بھی انسانیت دشمنی کا وہی جنونی ڈرامہ دوہرایا جائے جو پٹیالہ اور کپورتھلہ کی ریاستوں میں دوہرایا جا چکا تھا۔گاندھی جی کے کشمیر سے واپس جانے کے بعد دوسرا اقدام یہ کیا گیا کہ شیخ محمد عبداللہ تو رہا کر دیے گئے۔لیکن مسلم کانفرنس کے تمام بڑے بڑے لیڈر بشمول چوہدری غلام عباس جیلوں میں پڑے رہے۔جنگ سنگھ نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی ہر طرف آتش زنی قتل و غارت گر دی اور غنڈہ گردی کا بازار گرم کر دیا۔ہزاروں بے گناہ مسلمان قتل اور زخمی ہوئے۔اور لاکھوں اپنی جانیں 333