کشمیر کی کہانی — Page 325
بارے میں خواب تک نہ دیکھ سکتا۔سردار ابراہیم کی نامزدگی اب جو آزاد کشمیر حکومت کے قیام اور اُس کے پہلے (عارضی) صدر خواجہ گلا کار کے سرینگر چلے جانے کے بعد اس کی تنظیم نو کا ذکر چھڑ ہی گیا ہے تو اس دوسرے حصہ کی کچھ تفصیل بیان کر دینا بھی بے محل نہ ہوگا۔سردار محمد ابراہیم خان سے منسوب یہ بیان شائع شدہ موجود ہے کہ وہ 23 اکتوبر 1947ء کو اپنی قیام گاہ پر سوئے ہوئے تھے کہ نصف شب کے بعد خواجہ عبدالرحیم صاحب ( کمشنر راولپنڈی ڈویژن) اور بیگم شاہنواز صاحبہ کی صاحبزادی نسیم شاہ نواز نے انہیں بیدار کر کے یہ اطلاع دی کہ اب یہ ضروری ہو گیا ہے کہ تمہاری صدارت میں آزاد جموں و کشمیر حکومت کی از سر نو تنظیم کی جائے اور اس کا اعلان کرنے میں تا خیر مکن نہیں۔“ (Kashmiries Struggle for Freedom PP by Saraf) گویا 23 /اکتوبر 1947 ء کو رات گئے تک خودسردار محمد ابراہیم خاں کو بھی یہ علم نہ تھا کہ وہ صدر بنائے جا رہے ہیں اور وہ بھی اس طرح صدر نامزد ہوئے تھے جس طرح خواجہ گلکار ( عارضی) صدر بنے تھے۔گل کار و ابراهیم تاریخ کشمیری قوم کے ان دو مجاہدوں کے اس ایثار کو ہرگز فراموش نہیں کر سکتی کہ جب یہ عظیم ذمہ داری پہلے 1/4اکتوبر کو خواجہ غلام نبی گلکار المعروف بہ انور اور پھر 24 اکتوبر کوسردار محمد ابراہیم خاں 329