کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 326 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 326

کے سپرد کی گئی۔تو ان دونوں میں سے کسی نے بھی مسلم کا نفرنس کی مجلس عاملہ کے بعض دوسرے ارکان کی طرح یہ عذر لنگ پیش نہیں کیا کہ ”ہمارے تو رشتہ دار بھی ریاست کشمیر میں بیٹھے ہیں اس لئے ہمیں اس ذمہ داری سے باز رکھا جائے۔“ حالانکہ یہ وقت اپنے چند اعزہ واقربا کی طرف دیکھنے کا نہیں پوری کشمیری قوم کی نجات و آزادی کے لئے سوچنے اور ایثار کرنے کا وقت تھا۔کیا یہ سچ نہیں کہ سردار محمد ابراہیم خاں کے نام قرعہ فال پڑنے سے بھی پہلے اراکین مسلم کانفرنس نے خواجہ گل کار کی جگہ مسلم کانفرنس کے دو معروف رہنماؤں کے نام صدارت کے لئے پیش کئے تھے۔مگر ان دونوں نے بھی اسی عذر پر کہ ان کے عزیز وا قارب ابھی ادھر ہیں۔اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے ہاتھ کھینچ لئے تھے۔اس کے برعکس خواجہ گل کار کا کردار یہ ہے کہ انہیں کشمیر سے عارضی طور پر بلایا گیا تھا۔اور وہ یہاں عارضی آزاد حکومت قائم کر کے پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت پھر سرینگر پہنچے تھے جہاں جیل کی کال کوٹھڑی اُن کے انتظار میں تھی۔تاریخ تحسین کے پھول تھر دلوں پر کب نچھاور کرتی ہے۔خوب یاد ہے۔کشمیر سے پنڈی آئے ہوئے مسلم کانفرنس کے اراکین 23 / تاریخ کو اپنے ساتھ راولپنڈی کے بعض کارکنوں کو لے کر لاہور آئے تھے۔یہاں اُن کی ملاقات آزادی کشمیر سے دلچسپی رکھنے والے بعض احباب اور صحافیوں کے علاوہ حضرت امام جماعت احمدیہ (صاحبزادہ میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب) سے بھی ہوئی۔کاش اس وفد کا کوئی رکن ان ملاقاتوں کا ما حصل من و عن بیان کر دیتا۔کچھ اور نہیں مورخین کا کام تو آسان ہو جاتا۔330