کشمیر کی کہانی — Page 317
اُن کی ان تمام خوبیوں کے باوصف آپ بات کے اسی پہلو کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں۔کہ گل کار احمدی بھی ہیں۔اگر میں انہیں صدر بننے کی اجازت دے دوں تو جنونی ملا مذہبی منافرت آرائی شروع کر دے گا۔اور دشمن کو اس سے فائدہ پہنچے گا۔اور ہمارا مقصد دشمن کے ظالم پنجے سے مظلومین کشمیرک نجات ہے۔“ اس پر تین چار متبادل نام پیش ہوئے جن میں ایک میرا ( مفتی ضیاء الدین صاحب ضیاء) کا نام بھی تھا۔میں نے کہا کہ یہ بہت ذمہ داری کا کام ہے اس کے لئے ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے اور اعلی تعلیم یافتہ شخص کی ضرورت ہے۔اور میں انگریزی نہیں جانتا۔صرف علم دین جانتا ہوں۔اسی طرح ایک یا دوسرے عذر پر پیش کئے جانے والے تمام متبادل نام نظر انداز ہو گئے۔اس پر چار و ناچار حضرت مرزا صاحب کو گل کار صاحب کو یہ ذمہ داری قبول کرنے کے لئے اجازت دینا پڑی لیکن اس کے باوجود آپ نے یہ شرط لگادی کہ وہ عارضی صدر ہوں گے اپنے قلمی نام سے کام کریں گے اور پھر کسی موزوں وقت پر مستقل صدر کا فیصلہ ہو جائے گا۔“ اور مجھے خوب یاد ہے حضرت مرزا صاحب نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا تھا کہ ”جب پاکستان میں عارضی حکومت کے قیام کا اچھی طرح اعلان ہو جائے تو گل کار صاحب سری نگر جا کر (انڈر گراؤنڈ ) کام کرنا شروع کر دیں۔“ کشمیر سے واپسی پر اور خواجہ گل کار نے اس ارشاد کی تعمیل کی۔وہ اعلان کے فوراًبعد ہی سرینگر چلے گئے اور وہاں کام کرتے ہوئے گرفتار کر لئے گئے۔پھر جب قیدیوں کے تبادلہ میں پاکستان آئے اور ان 321