کشمیر کی کہانی — Page 313
ہفتہ وار رسالہ لائیٹ کا نوٹ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایڈیٹر ہفتہ وار رسالہ لائیٹ (Light) مولانا محمد یعقوب خان نے ( جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے رکن رہ چکے تھے اور یوں انہیں اس کارِ خیر میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین صاحب سے عملی تعاون کی سعادت حاصل ہو چکی تھی۔) لکھا: ترجمہ ہم پریس میں جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ کشمیر سے کشمیر کے عوام کی طرف سے خود مختاری کے اعلان کی خوشخبری موصول ہوئی جس سے منکشف ہوا کہ ” بمقام مظفر آباد ایک عارضی حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔خود مختاری کے اس اعلان میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہری سنگھ کا راج ۱۵ راگست ۱۹۴۷ ء کے قانونِ آزادی ہند کے مطابق ختم ہو گیا ہے۔اب اُسے کوئی اخلاقی قانون اور مذہبی حق نہیں رہا کہ وہ ریاست کی مرضی کے خلاف اُن پر حکمرانی کرے لہذا اس کے نتیجہ میں اُسے معزول کیا جاتا ہے اور 4 را کتوبر سے اس پر عمل ہوگا۔اعلان میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تمام وزراء اور عہدیداران اور ملازمین پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عارضی جمہوریہ کشمیر کے احکامات و ہدایات کی پوری پوری پابندی کریں جس شخص نے بھی اس قائم کردہ آئینی حکومت کی خلاف ورزی کی یا کسی رنگ میں معزول شدہ غاصب مہاراجہ کی امداد یا حوصلہ افزائی کی اُس کا یہ فعل بغاوت کے مترادف ہوگا اور اُسے مناسب سزا دی جائے گی۔“ 317