کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 312 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 312

پاکستان کی سرحد سے 20 میل دور مظفر آباد میں عمل میں آیا۔یہ اعلان مسٹرانور کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے جو اپنے تئیں عارضی جمہور یہ کشمیر کا صدر بیان کرتے ہیں۔اس کے مطابق برطانیہ کا اقتدار اعلیٰ ختم ہوتے ہی کشمیر کے حکمران خاندان کے وہ تمام حقوق زائل ہو گئے ہیں جن کا دعویٰ وہ بیعانہ امرتسر کی بنا پر کرتا تھا۔جس کے ذریعہ برطانیہ نے کشمیر کو 50 لاکھ روپے کی معمولی رقم (75 لاکھ نانک شاہی) کے عوض گلاب سنگھ جو موجودہ ( راجہ ) ہری سنگھ کا جد تھا فر وخت کر دیا تھا ریاستی عوام نے مظفر آباد کو اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر عارضی جمہوری حکومت قائم کی ہے۔اعلان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 4/اکتوبر 1947ء کو ایک بجے رات کے بعد موجودہ حکمران ہری سنگھ یا کوئی اور شخص جو اس کے احکام یا ہدایات پر ریاست کی حکمرانی کا دعوی کرے گا۔اسے عارضی جمہور یہ کشمیر کے قوانین کے تحت سخت سزادی جائے گی۔آج سے تمام قوانین احکامات اور ہدایات جو عارضی جمہوریہ کشمیر کی جانب سے شائع اور جاری ہوں گے عوام کا فرض ہے کہ وہ ان احکام کی تعمیل اور ان کا احترام کریں مسٹر اور کشمیر مسلم کانفرنس کے ممتاز مبر ہیں جس مسلم کانفرنس کے پریذیڈنٹ چوہدری غلام عباس اور جنرل سیکرٹری آغا شوکت علی ہیں جو ایک سال سے بحکم کشمیر گورنمنٹ محبوس ہیں۔66 سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور 8 اکتوبر 1947ء) 316