کشمیر کی کہانی — Page 297
پھر فرمایا: اگر اس وقت کشمیری مسلمانوں اور حکومت پاکستان نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ذرا بھی کوتاہی کی اور ایک لمحہ بھی تساہل اور شستی کی نذر کیا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم ہمیشہ کے لئے کشمیر کو اپنے ہاتھوں سے کھو بیٹھیں گے۔جب تک لوہا گرم ہے ہمیں ضرب لگانی چاہئیے لیکن اگر لو ہا ٹھنڈا ہو گیا تو پھر تمام دنیا کی طاقت بھی ہمارے کسی کام نہیں آئے گی۔جیسا کہ ہم نے پہلے توجہ دلائی ہے کشمیر اور حیدر آباد کا فیصلہ ایک ہی وقت اور ایک ہی اصول کے مطابق ہونا چاہیے اور اس مقصد کے حصول کے لئے صرف آج ہی وقت ہے پھر کبھی نہیں آئے گا۔“ انتباہ پر انتباه (بحوالہ روزنامہ الفضل 21 اکتوبر 1947ء) حضرت امام جماعت احمدیہ نے بار بار اور بڑے زور سے کشمیر کے معاملہ کو پیش کیا اور اسے اول وقت میں سلجھا لینے کے مشورے دیئے۔وہ اپنی بصیرت سے آئندہ وقت اور اس میں پیدا ہونے والی الجھنوں اور پیش آنے والی مشکلات کا اندازہ فرما چکے تھے۔اس لئے انہوں نے بڑی دردمندی سے اور بڑی بے قراری سے بار بار کشمیر کے مسلمانوں اور حکومت پاکستان کو جھنجھوڑا اور کہا که خدا را یہ سہل انگاری سے کام لینے کا وقت نہیں ہے۔یہ وقت ہاتھ سے جاتا رہا تو تمام عمر پڑے لکیر کو پیٹتے رہو گے چنانچہ ایک موقع پر آپ نے فرمایا: مشرقی پنجاب کا اور خاص مغربی پنجاب کے وہ علاقے جن 301