کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 293 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 293

میرے ہمراہ بھیجے گئے۔ہم وہ فہرست لے آئے اُن دنوں فوٹوسٹیٹ کی سہولت تو تھی نہیں۔چنانچہ راتوں رات اس کی نقول تیار کی گئیں۔صاحبزادہ صاحب اور ہم سب اُن کے رفقاء ساری رات اس اہم کام کی تکمیل میں بجھتے رہے حتی کہ طلوع آفتاب سے قبل یہ مرحلہ طے پا گیا اور دوسرے روز نہ صرف وہ ریکارڈ بحفاظت سرکاری دفتر کھلنے سے قبل متعلقہ دفتر میں پہنچ گیا۔اس کی مناسب حفاظت کا انتظام بھی ہو گیا تا کہ بوقت ضرورت بطو رسند پیش کیا جاسکے۔پروفیسر سپیٹ کے تیار کردہ کار آمد نقشوں اور انگلستان سے منگوائی جانے والی اہم کتب کا ذکر چوہدری محمد ظفر اللہ خان نے اپنی خود نوشت سوانح حیات تحدیث نعمت میں بڑے ہی تحسین آفرین انداز میں فرمایا ہے۔چوہدری صاحب موصوف نے اپنی ذمہ داری اس عمدگی سے نبھائی اور مسلم لیگ کا کیس ایسے مؤثر ہبر بہن اور مدلل انداز میں کمیشن کے روبرو پیش کیا کہ جس روز فریقین کی بحث ختم ہوئی۔اُسی روز پنجاب کے معروف ایڈووکیٹ اور سابق لیگل ریمیمبر نسر شیخ عبدالحق نے کانگرس کے سینیٹر وکیل مسٹر موتی لعل سیلواڈ کے اعزاز میں دعوت چائے دی۔اس موقع پر انہوں نے شیخ موصوف سے کمیشن کی کارروائی پر تذکرہ کے دوران کہا۔اگر حد بندی کا فیصلہ بحث میں پیش کردہ دلائل کی بناء پر ہوا تو تم لوگ بازی لے جاؤ گے۔“ ( تحدیث نعمت صفحہ 509، ایڈیشن اوّل دسمبر 1971ء) اس پر چوہدری صاحب نے (صدفی صد سچ ) فرمایا: باؤنڈری کمیشن کی کارروائی صرف ایک ڈھونگ ہے۔“ تحدیث نعمت صفحہ 510 ، ایڈیشن اول دسمبر 1971ء) 297