کشمیر کی کہانی — Page 279
مسلمانوں کی حالت زار اس وقت کی صورتحال سے مسلمانوں کے دلوں میں جو گزررہی تھی اس کا ایک اچٹتا سا اندازہ چودھری غلام عباس کی اس تحریر سے بھی کیا جا سکتا ہے۔مسلمانوں کا ایک باشعور طبقہ اسلامی تنظیم کے پاش پاش ہو جانے کی وجہ سے تصویر پاس واضطراب بنا ہوا تھا۔عوام بددل تھے لیکن مہاراجہ ہری سنگھ، مسٹر آئین گر اور ریاست کے ہندو بغلیں بجارہے تھے کہ مسلمانان ریاست کی تنظیم اور مرکزیت کا قصر عظیم ہمیشہ کے لیے منہدم ہو گیا۔اور ادھر میں اور میرے ساتھی شہر مسار اور پریشان تھے کہ جس قوم کے لیے اتنی جدو جہد کی اس کا انجام کیا ہو گا۔لیکن قوم کے معاملہ فہم ، بالغ نظر اور دورا ندیش لوگوں نے قومی خطرے کا نشان بلند کر دیا۔اور عوام نے بھی اپنے مستقبل کی بھیانک تصویر دیکھ کر انگڑایاں لینی شروع کر دیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے ہی دیکھتے طول و عرض ریاست سے وفود۔خطوط اور دیگر ذرائع سے مجھ سے اپنے جمود و تعطل کو توڑنے کے مطالبے اور تقاضے شروع ہو گئے اور دو تین ہفتوں کے اندراندر ہی نوبت اس حد تک پہنچ گئی کہ مسلم کانفرنس کی ترتیب نو کا کٹھن کام پھر سنبھالنا پڑا۔چند دوستوں سے مشورہ کر کے ۱۹۴۰ء میں مسلم کانفرنس کے احیاء کا اعلان کر دیا گیا اور صوبہ جموں کے دورے شروع کر دیے۔“ ( کشمکش مصنفہ غلام عباس صفحه ۲۲۰-۲۲۱) مسلم کانفرنس کا احیاء اس طرح مسلم کا نفرنس ایک دفعہ پھر معرض وجود میں آگئی۔لیکن اب اس کی شکل وصورت ایک ایسے پھل کی سی تھی جس کا قشر تو ویسا ہی تھا لیکن اس کا مغز سمٹ اور سکرٹ چکا تھا۔9 فروری ۴۲ ء کو جموں کے مقام پر اس کا جو اجلاس ہوا اس میں شریک ہونے والوں کے دلوں کا اضطراب ان کے چہروں سے صاف پڑھا جا سکتا تھا۔یوں بھی اب مسلم کانفرنس نمائندہ 283