کشمیر کی کہانی — Page 267
”ہمارا کہنہ نظام نئے نظام میں تبدیل ہو رہا ہے۔لازمی طور پر ایسے حالات میں خلجان پیدا ہوتا ہے اور بعض غلط فہمیاں بھی پید ہو جاتی ہیں“۔(اصلاح سری نگر ۱۶ رجون ۱۹۳۹ء) اس کے بعد وہ غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جو ان کے خیال میں ان دنوں پھیلی ہوئی تھیں یہ بھی فرمایا:۔۱۹۳۹ء) گاندھی جی ہندوستان کے واحد مسلمہ لیڈر وراہنما ہیں“ (اصلاح سری نگر ۱۶ جون اس موقعہ پر چودھری حمید اللہ خاں مرحوم نے اس قرار داد کی مخالفت میں جو تقریر کی تصویر کا دوسرا رخ منظر عام پر لانے کے لیے ضروری ہے کہ اُسے بھی یہاں درج کر دیا جائے۔چودھری حمید اللہ مرحوم نے فرمایا کہ:۔چودھری حمید اللہ خاں کی تقریر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے دستور اساسی میں یہ تحریر ہے کہ اس کانفرنس کے اہم مقاصد اتحاد بین المسلمین۔مسلمانوں کے سیاسی حقوق کا تحفظ۔اور ان کی مذہبی تمدنی، اخلاقی ، معاشرتی ترقی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ریزولیوشن کے پاس ہو جانے سے مسلمانوں کی مذہبی معاشرتی اور تمدنی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے۔اور کیا مسلمانوں کی تمام قسم کی بدحالی دور ہو گئی ہے۔اگر نیشنل کانفرنس بنادی گئی تو صرف حصول ذمہ دار نظام حکومت کی طرف ہی زیادہ سے زیادہ توجہ دی جائے گی اور مسلمان علی حالہ بدستور پسماندہ رہیں گے۔دوسری اقوام سے معاہدات 271