کشمیر کی کہانی — Page 252
اس فنڈ کی فراہمی میں جن بزرگوں اور کارکنوں نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔اور گاؤں گاؤں قریہ قریہ پھر کر مظلومین کی داد رسی کے لیے سرمایہ جمع کیا اُن میں ضعیف العمر میاں احمد دین زرگر مرحوم ، واعظ اسلام با با حسن محمد ( مرحوم ) اور راجہ مددخان (مرحوم) کے اسماء گرامی نمایاں ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی نیک جدو جہد کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ملک محمد اسحاق نے بھی اس دفتر میں کام کیا۔مسلم کانفرنس کے اجلاس اکتوبر ۳۵ء میں مسلم کانفرنس کا چوتھا اجلاس چودھری غلام عباس کی صدارت میں منعقد ہوا۔اس اجلاس کے منتظم اعلیٰ خواجہ غلام نبی گلکار تھے۔سرینگر میں چودھری صاحب کا ایک عظیم الشان جلوس نکالا گیا۔دریائی جلوس جس کے قائد خود گلکار صاحب تھے پانچ سو پر مشتمل تھا۔اس کے بعد ۴ امئی ۱۹۳۷ء میں مسلم کانفرنس کا پانچواں اجتماعی اجلاس کشتیوں پر پونچھ میں منعقد ہوا۔میر واعظ احمد اللہ صاحب کی وفات ۳۷ء کے اوائل میں مسلمانان کشمیر کو اپنے قابل احترام را ہنما مولانا احمد اللہ میر واعظ ہمدانی کی وفات حسرت آیات کا روحانی صدمہ جھیلنا پڑا مرحوم ایک بہت بڑی مذہب پسند جمیعت کے راہنما تھے۔مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کے لیے اپنے سینے میں ایک خاص در در کھتے تھے۔حنفیہ ہائی سکول (اسلام آباد) اور خانقاہی مڈل سکول“ آپ ہی کی ملی تڑپ کی یادگاریں ہیں مرحوم حنفی المذہب اور اپنے عقائد میں بے حد پختہ مسلمان تھے۔بڑے وسیع القلب اور ہر نوع کے تعصب سے پاک دل و دماغ کے مالک تھے۔ایجی ٹیشن کے آغا ز ہی سے اس سے وابستہ ہوئے اور آخری دم تک دلی اور مخلصانہ تعاون سے اُسے سہارا دیتے 256