کشمیر کی کہانی — Page 246
ہوگی۔پس اس امر کے لیے آپ لوگ تیار رہیں کہ اگر خدانخواستہ قومی کا رکنوں کو جلدی آزادی نہ ملی اور ان کی آزادی سے پہلے انتخابات ہوئے ( گو مجھے اُمید نہیں کہ ایسا ہو ) تو ان کا فرض ہونا چاہیے۔کہ ایسے لوگوں کے مقابلہ میں قومی کام سے ہمدردی رکھنے والوں کو امیدوار کھڑا کر دیں۔اور یہ نہ کریں کہ کانگریس کی نقل میں بائیکاٹ کا سوال اٹھا دیں۔بائیکاٹ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔کیونکہ آخر کوئی نہ کوئی ممبر تو ہو ہی جائے گا۔اور قومی خیر خواہوں کی جگہ قومی غذاروں کو ممبر بننے کا موقعہ دینا ہر گز عقل مندی نہ کہلائے گا۔( ٹریکٹ مسلمانانِ جموں کے نام میرا ساتواں خط) دوسرا مشورہ پھر اپنے ایک دوسرے مکتوب میں جسے کشمیر کے گوشہ گوشہ میں پہنچایا گیا۔آپ نے قومی کارکنوں کو اس طرح خبر دار کیا:۔اسمبلی بھلی یائیری جلد بننے والی ہے بعض ساتھی بعض حکام سے مل کر کوشش کر رہے ہیں۔کہ وہ ووٹروں کی فہرست ایسی بنوائیں کہ جس سے ان کی پارٹی کو طاقت حاصل ہو جائے۔آپ کو چاہیے کہ اس کا تن دہی اور عقل مندی سے مقابلہ کریں اور اپنے ووٹروں کی لسٹ مکمل کروائیں۔تا کہ اگر اسمبلی پر قبضہ کرنے کی تجویز ہو۔جو میرے نزدیک ضروری ہے تو آپ ایسا کر سکیں۔ورنہ اگر کانفرنس نے اسمبلی پر قبضہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا تو ووٹروں کی فہرست کے نقائص کی وجہ سے آپ لوگ زیادہ ہو کر بھی کم نظر آئیں گے“ (حقیقت حال۔مطبوعہ خط بنام برادرانِ کشمیر ۱۳۴) 250