کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 241 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 241

پس جب ممبروں کی بہت بڑی اکثریت نے فیصلہ صادر کر دیا کہ کمیٹی کا کام جاری رہے اور انھوں نے ان بزرگوں کے خیالات سے اتفاق نہ کیا۔جنھوں نے لاہور میں ایک پبلک جلسہ منعقد کر کے ایک نئی کمیٹی تاسیس کا بندوبست کیا تھا۔تو کمیٹی کے ممبروں کے لیے اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ وہ کام کو جاری رکھتے اور نئے عہدے دار منتخب کر لیتے۔لیکن ۳ رستمبر کے جلسے میں شریک ہونے والے ممبروں کے پیش نظر اتحاد تھا وہ دل سے چاہتے تھے کہ اہل کشمیر کی امداد کے کام میں حتی الامکان اختلاف پیدا نہ ہو۔اس لیے انھوں نے بالا تفاق ان بزرگوں کو صدر اور سیکرٹری منتخب کیا۔جن پر نئی کمیٹی بنانے والوں کو زیادہ سے زیادہ اعتماد ہوسکتا تھا۔تا اگر وجہ نزاع یہی ہو کہ اختیار واقتدار کسی ایسے گروہ کے ہاتھ میں نہ جائے۔جس پر نئی کمیٹی کے مؤسیسن کو اعتراض ہو تو اس وجہ نزاع کا استیصال ہو جائے۔اگر مجوزہ صدر صاحب اور سیکرٹری صاحب سعی اتحاد کی اس پیش کش کو خدا نا خواستہ قبول نہیں کریں گے تو لازماً دوسرے صدر اور سیکرٹری کا انتخاب عمل میں آئے گا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی حسب سابق اپنا کام جاری رکھے گی۔اور کوشش کرے گی کہ تصادم کا کوئی موقع پیش نہ آئے۔اتحاد ہی کے مقاصد کو ملحوظ رکھتے ہوئے نہ کوئی مجلس عاملہ منتخب کی گئی اور نہ دستور اساسی کے قواعد وضوابط معرض بحث میں لائے گئے۔بلکہ پانچ آدمیوں کی عارضی کمیٹی بنا دی گئی۔تا کہ وہ صدر صاحب اور سیکرٹری صاحب کے مستقل فیصلہ تک کشمیر کمیٹی کا کام جاری رکھے۔ان پانچ آدمیوں میں سے بھی کسی کو صدر یا سیکرٹری نہ بنایا گیا۔تا کہ خدانخواستہ یہ 245