کشمیر کی کہانی — Page 238
صاحب کا اثر کمیٹی کے ٹوٹ جانے سے ختم ہو جائے گا۔ریاست کے ذمہ دار لیڈروں کو اس نے ایک بار پھر جیل میں دھکیل دیا تھا۔یہ سب گرفتاریاں مئی اور جون ۳۳ء میں ہوئی تھیں بعد میں بھی نو جوانوں کی گرفتاریاں جاری رہیں۔محترم مرزا صاحب نے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ کو مسٹر کالون وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے بھجوایا تا کہ وہ اس پر یہ واضح کریں کہ یہ سب کا رروائی غلط ہو رہی ہے۔اس کا انسداد کیا جائے۔دوسری طرف شیخ بشیر احمد ایڈووکیٹ جو مظلوم کشمیریوں کی درخواست پر ان کے مقدمات کی پیروی کے لیے تشریف لے گئے تھے ہر دو کو گورنر کشمیر نے ریاست چھوڑ دینے کے نوٹس جاری کر دیئے۔یہ ہر دو صاحبان جب واپس پنجاب پہنچے تو یہاں کے پریس میں یہ خبر آ چکی تھی کہ پارلیمنٹ میں سوال کیا گیا ہے کہ ان صاحبان کو ریاست سے کیوں نکالا گیا ہے۔وزیر ہند نے بعد تحقیق جواب دینے کا وعدہ کیا۔جب ریاست کی گوشمالی ہوئی تو وہ اپنے احکام کوکالعدم قرار دینے پر مجبور ہوئی۔242