کشمیر کی کہانی — Page 231
بنالیں علامہ اقبال کے بغیر کشمیر کمیٹی نے کام کیا وہ اب بھی موجود ہے اور آئندہ بھی کام کرے گی۔حق یہ ہے کہ کشمیر کمیٹی کا کام علامہ اقبال اور برکت علی صاحب کے بس کا نہیں تھا۔لہذا وہ بہانہ بنا کر بھاگ گئے۔وہ جس وقت مستعفی ہوئے اُس وقت نہ کوئی جھگڑا ہوا نہ تو تو میں میں ہوئی " اور نہ کوئی اختلاف رائے ہی بہت زیادہ موجود تھا ( روزنامه سیاست لاہور ۲۴ / جون ۳۳ ) انگریزی روز نامه سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور نے لکھا:۔آئینی طور پر ہم یہ بات سمجھ ہی نہیں سکتے کہ لاہور کے لوگوں کی بنائی ہوئی کمیٹی آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی قائم مقام کس طرح ہو سکتی ہے۔اصل کمیٹی ۳۱ء کے موسم خزاں میں بمقام شملہ بنائی گئی تھی۔جب کہ بہت سے مسلم لیڈر اور مختلف صوبہ جات کے ممبران کونسل وہاں موجود تھے۔اس لیے وہ ایک اچھی خاصی نمائندہ کمیٹی تھی مگر ہائی لاہور کی منتخب شدہ کمیٹی کو یہ پوزیشن کسی صورت میں بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔۔۔(۲۵ جون ۳۳ ) روز نامہ انقلاب نے یہ تحریر کیا:۔جن اصحاب کو آل انڈیا کشمیر کمیٹی سے اختلاف پیدا ہوا تھا۔ان کے نام پر لاہور میں ایک پبلک جلسہ منعقد کیا گیا۔جس کی حقیقت وحیثیت کی بحث میں پڑنے کا یہ موقع نہیں۔اس جلسہ میں ایک نئی کمیٹی کی تاسیس کے لیے ایک جماعت بنادی گئی۔اس کے بعد کم از کم ہمیں معلوم نہ ہوسکا کہ جماعت مذکور کے تجویز کردہ ارکان میں سے کتنے اصحاب نے تعاون پر آمادگی ظاہر کی اور اس جماعت نے نئی کمیٹی کی تاسیس کے ضمن میں کیا کیا 235