کشمیر کی کہانی — Page 227
کرنا نئے عہدہ داروں کا فرض اولین تھا۔یا ان کو فارغ کر دیا جاتا یا ان سے فیصلہ کیا جاتا۔کشم کے لیڈروں کو کام چلانے کے لیے جو ما ہوا را مد دل رہی تھی۔اس کے بند کیے جانے یا جاری رکھنے کے متعلق نئی کمیٹی ان لوگوں کو اطلاع دیتی۔لیکن ہوا کہ نئے عہدہ داران منتخب ہوتے ہی خواب خرگوش میں پڑ گئے اور مرکز کا رابطہ محاذ جنگ پر لڑنے والے مجاہدوں سے بالکل منقطع ہو گیا۔جب کسی فوج کے ساتھ یہ سلوک ہو تو اس کے لیے دو ہی صورتیں باقی رہ جاتی ہیں ہلاکت یا پسپائی۔ظاہر ہے کہ ہر عقلمند ایسی صورت میں دوسری چیز کو ترجیح دے گا۔اور اس کے بعد اگر مرکز ان سے گلہ کرے تو ہر شخص جواب دے گا۔درمیان قعر دریا تخته بندم کردی بازمی گوئی که دامن ترمکن ہوشیار باش ان حالات میں اگر کوئی شخص اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ ساری کاروائی ریاست کے ایماء پر مسلمانان کشمیر کو تباہ و برباد کرنے کے لیے ریاست کے ایجنٹوں اور روپیہ سے سرانجام پائی اور اس تحریک کا مقصد مسلمانان کشمیر کو بیرونی امداد سے محروم کرنے اور تحریک آزادی کو کچل کر رکھ دینے کے سوا اور کچھ نہ تھا۔تو کون اس کی تردید کر سکتا ہے۔نئی کمیٹی کی خدمات نئی کمیٹی پر جب کشمیر کے باشندوں کی طرف سے وکلاء بھجوانے کے لیے زور دیا گیا تو انہوں نے تین چار وکلاء کو وقتا فوقتا کشمیر بھجوایا۔جن کے متعلق کشمیر کے ذمہ دار عہدہ داران کی آراء بطور نمونہ درج ہیں۔یہ شہادتیں یہ جاننے کے لیے کافی ہیں کہ وہ خدمت کس انداز اور بھاؤ سے کرنے گئے 231