کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 226 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 226

بعض ریاست کے افراد نے باہر آ کر لوگوں کو اکسانا شروع کیا۔کہ کمیٹی کا احمدی صدر نہیں ہونا چاہیے۔اور ان ایجنٹوں میں سے ایک نے اپنے ایک ہم خیال لیڈر سے لاہور میں کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں پندرہ سولہ ہزار روپیہ فورا مہیا کر سکتا ہوں۔پھر اس نے کشمیر جا کر اپنے ایک دوست کو لکھا کہ میں لاہور میں آگ لگا آیا ہوں۔اب چاہیے کہ یہ آگ سلگتی رہے اور مجھے نہیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسٹر مہتہ کے بعض ہوا خواہوں نے یہ کاروائی کی ہے۔ورنہ واقعات کا یہ اجتماع کس طرح ہوا۔جب آدمی وہی ہیں۔حالات وہی ہیں۔کام وہی ہے تو نتائج کیوں مختلف نکلنے لگے؟“ (برادران جموں و کشمیر کے نام میرا دوسرا خط۔سلسلہ چہارم وکش مطبوعہ ار جولائی ۶۳۳) عہدہ داروں کا فرض نئے عہدہ داروں کا یہ بھی فرض تھا کہ وہ اس کے نتائج کو مد نظر رکھتے اور نئے عہدہ داروں پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی تھیں ان سے آنکھیں بند نہ کرتے۔کمیٹی کے ہر رکن کو علم تھا که درجن کے قریب نہایت قابل وکلاء اپنی چمکتی ہوئی کامیاب پریکٹس کو چھوڑ کر انتہائی مالی قربانی کر کے کشمیر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔کیا نئی کمیٹی ان سے کام لے گی۔اور اگر کام لے گی تو ان لوگوں سے تصفیہ کرنا ضروری تھا کہ وہ کن شرائط پر کام کریں گے۔نئے صدر اور سیکرٹری دونوں قانون دان تھے۔کاش وہ ذرا ایک ماہ ہی کشمیر جا کر قانونی خدمات سرانجام دیتے۔تاکہ ان کے دلوں میں ان لوگوں کی کچھ تو قدر پیدا ہوتی جو یہ کام مہینوں بلا معاوضہ سرانجام دیتے رہے اور ان کے میدانِ عمل میں آنے سے دنیا پر بھی یہ واضح ہو جاتا کہ وہ اپنے ذاتی مفاد کوقومی مفاد پر قربان کرنے اور ایثار کا صحیح نمونہ پیش کرنے میں کسی سے کم نہیں ہیں۔بیسیوں دوسرے کارکن سارے کشمیر میں پھیلے ہوئے تھے ان کے اخراجات کا انتظام 230