کشمیر کی کہانی

by Other Authors

Page 225 of 351

کشمیر کی کہانی — Page 225

پہلے ڈکٹیٹر تھے یہ اعلان کرنے پر مجبور ہوئے وو میں بصد تاسف احرار کی سرگرمیوں کی مذمت پر مجبور ہوں۔کیونکہ ان گمراہوں کے بے جا جوش و خروش نے ہماری زندگیوں کو تباہ و برباد کر کے عظیم الشان مصائب میں مبتلاء کر دیا۔( سیاست ۲۴ / نومبر ۱۹۳۲ء) بروقت انتاه ریاست کی طرف سے اس تحریک کو کچلنے کے لیے جو کاروائیاں ہوتی تھیں۔محترم صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی کو اپنے ذرائع سے ان کا علم ہوتارہتا تھا۔چنانچہ کمیٹی کے اندر انتشار بھی ریاست کی کوششوں ہی کا نتیجہ تھا۔آپ نے کشمیریوں کو ان فتنوں سے بر وقت خبر دار کر دیا تھا۔چنانچہ آپ نے اپنے ایک مطبوعہ مکتوب میں یہ تحریر فرمایا: -1 وو میں اس امر کا یقین رکھتا ہوں کہ بعض افسران ریاست کی نیت درست نہیں اور یقین کی وجوہ یہ ہیں:۔میرے ایک نمائندہ سے ریاست کے ایک ہندو وزیر نے گذشتہ سال یہ الفاظ کہے تھے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ہمیں بھی پارٹیاں بنانی آتی ہیں اور ہم بھی ریاست میں آپ کے خلاف پارٹیاں بنوا سکتے ہیں۔بعض لوگ جو شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے خلاف کوشش کر رہے ہیں۔ان کی نسبت یقینی طور پر ثابت ہے کہ وہ اس وزیر سے خاص تعلقات رکھتے ہیں۔2 باہمی مناقشات دیر سے شروع تھے۔لیکن نہ حکومت نے ان پر سختی سے نوٹس لیا اور نہ شیخ محمد عبداللہ صاحب کو اس کا ذمہ دار بنایا۔لیکن آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اس اجلاس کے بعد جس میں مسٹر مہتہ کے خلاف ریزولیوشن تھا۔یکدم ریاست میں بھی ہل چل شروع ہو گئی اور 229